BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 August, 2008, 07:56 GMT 12:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدراتی انتخاب، کاغذات جمع

سعید الزمان صدیقی مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں
پاکستان کے نئے صدر کے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے تین بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدواروں آصف علی زرداری، جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی اور سید مشاہد حسین نے کاغذات نامزدگی داخل کرا دیے ہیں۔

آصف علی زرداری خود الیکشن کمیشن نہیں گئے اور ان کے ایک درجن سے زائد کاغذات نامزدگی سید خورشید شاہ، راجہ پرویز اشرف، فاروق نائک، شیری رحمٰن اور دیگر افراد نے جمع کروائے۔

وزیر اطلاعات شیری رحمان کے مطابق آصف علی زرداری کے متبادل امیدوار کے طور پر ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے کاغذات نامزدگی داخل کرائے گئے ہیں۔

ان کے مطابق صدارتی انتخاب کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے تجویز اور تائید کنندگان میں مخدوم امین فہیم، اسفند یار ولی خان، ڈاکٹر فاروق ستار اور شاہد بگٹی، ڈاکٹر ثناء اللہ زہری اور دیگر شامل ہیں۔

صدر کے امیدوار کے لیے مسلم لیگ (ق) کے سید مشاہد حسین نے بھی کاغذات نامزدگی داخل کرائے اور اس موقع پر ان کے ہمراہ پرویز الہیٰ اور دیگر رہنما بھی الیکشن کمیشن آئے۔

مسلم لیگ نواز کے جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی نے بھی پاکستان کے نئے صدر کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔ ان کے ہمراہ مخدوم جاوید ہاشمی، چوہدری نثار علی خان، اقبال ظفر جھگڑا ور دیگر الیکشن کمیشن پہنچے۔

فریال تالپور نے زرداری کی متبادل امیدوار کے طور پر جمع کرائے ہیں

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پاکستان کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی آج دو پہر بارہ بجے تک ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔صدارتی انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال اٹھائیس اگست کو ہوگی اور تیس اگست تک کوئی بھی امیدوار اپنا نامزدگی فارم واپس لے سکے گا اور اُسی روز حتمی فہرست کا اعلان ہوگا۔

الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ کاغذات نامزدگی کمیشن کے اسلام آباد اور چاروں صوبائی دفاتر یا چاروں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے دفاتر میں بھی جمع کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن تینوں بڑی جماعتوں کے امیدواروں نے اسلام آباد میں ہی اپنے کاغذات جمع کرا لیے ہیں۔

تاہم کراچی سے بی بی سی کے نمائندے ریاض سہیل کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں بھی آصف علی زرداری کے لیے نو نامزدگی فارم جمع کراوئے گئے جبکہ اس کے علاوہ آٹھ عام شہری بھی انتخاب لڑنے کے خواہش مند ہیں۔

آصف علی زرداری کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سات، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے ایک ایک نامزدگی فارم جمع کروایا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے صوبائی وزرا اور ارکانِ اسمبلی نے وزیراعلٰی سید قائم علی شاہ کی قیادت میں ہائیکورٹ کے چیف جسسٹس عزیزاللہ سومرو کے پاس نامزدگی فارم جمع کروائے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے فیصل سبزواری اور شعیب بخاری آصف علی زرداری کے تجویز اور تائید کنندہ ہیں جبکہ ایک نامزدگی فارم ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے مشترکہ طور پر جمع کرایا ہے، جس میں تجویز اور تائید کنندہ صوبائی وزیر سید مراد علی شاہ اور فیصل سبزواری ہیں۔

مسلم لیگ(ق) کے امیدوار مشاہد حسین پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ

آٹھ عام شہریوں فقیر احمد انصاری، شکیل احمد، مرزآ اصف بیگ، سید امتیاز حسین، سخاوت علی، ڈاکٹر میاں احسان باری، امیر علی پٹی والا اور محمد اعجاز نے بھی نامزدگی فارم جمع کروائے ہیں مگر ان کی کوئی تجویز یا تائید کرنے والا نہیں۔

شیڈول کے مطابق نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ چھ ستمبر سنیچر کے روز قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح دس سے شام تین بجے تک ہوگی۔ صدارتی انتخاب کے ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق ہوں گے جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پرزائیڈنگ افسران متعلقہ صوبے کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز ہوں گے۔

صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان پولنگ ختم ہونے کے فوری بعد کیا جائے گا لیکن نو منتخب صدر حلف اس وقت اٹھائے گا جب الیکشن کمیشن حتمی سرکاری نتائج کا اعلان کرے گا۔

واضح رہے کہ صدارتی انتخاب میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل گیارہ سو ستر اراکین ووٹ ڈالتے ہیں۔ سینیٹ کے اراکین کی تعداد ایک سو، قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس، پنجاب اسمبلی کے تین سو اکہتر، سندھ اسمبلی کے ایک سو اڑسٹھ، سرحد اسمبلی کے ایک سو چوبیس اور بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد پینسٹھ ہے۔

قومی اسمبلی، سینیٹ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں فی رکن فی ووٹ گنا جائے گا جبکہ باقی تینوں صوبائی اسمبلیوں کے کل اراکین کے پینسٹھ پینسٹھ ووٹ گنے جائیں گے۔ آئین کے مطابق سینیٹر اور صدر کے انتحاب کے لیے چاروں صوبوں کو برابر کا درجہ دیتے ہوئے بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد کو بینچ مارک بنایا گیا ہے۔

مشاہد حسینصدارتی امیدوار
صدارت کے امیدوار الیکشن کمیشن میں
جسٹس صدیقی کون
انہوں نے اپنے ہی چیف جسٹس کو نکال باہر کیا
مضبوط امیدوار
زرداری نون کے بغیر بھی جیت سکتے ہیں
اسی بارے میں
نواز شریف سے معذرت: زرداری
25 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد