BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 August, 2008, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: زرداری کے حق میں قرارداد

اسفندیار ولی اور آصف علی زرداری(فائل فوٹو)
قرارداد کی حمایت میں چھہتر جبکہ مخالفت میں چار ووٹ آئے
صوبہ سرحد کی اسمبلی نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو بطور صدر پاکستان نامزدگی کے سلسلے میں ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی ہے۔ تاہم مسلم لیگ (ن) ، جمعیت علماء اسلام (ف)، مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی شیرپاؤ نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

پیر کی صبح سرحد اسمبلی کا اجلاس سپیکر کرامت اللہ چغرمٹی کی صدارت میں شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر رحیم داد خان اور عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما بشیراحمد بلور نے آصف علی زرداری کی بطور صدر نامزدگی کےلئے ایوان میں قرارداد پیش کی۔ انہوں نے توقع کا اظہار کیا کہ صدر بننے کے بعد زرداری عدلیہ کی بحالی اور جمہوریت کی بالادستی کے لئے کام کریں گے۔

زرداری پر تنقید
ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ سترھویں ترمیم ختم کردی جائےگی اور ججوں کو بحال کیا جائےگا۔ ایسے شخص کو صدر بنانے کی حمایت کسی صورت نہیں کرسکتے جو اپنے وعدوں سے مکرتا رہے اور روزانہ ایک نیا موقف اپنائے
پیر صابر شاہ
اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنما پیر صابر شاہ نے کہا کہ ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ سترھویں ترمیم ختم کردی جائےگی اور ججز کو بحال کیا جائےگا۔ انہوں نے آصف زرداری پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے شخص کو صدر بنانے کی حمایت کسی صورت نہیں کرسکتے جو اپنے وعدوں سے مکرتا رہے اور روزانہ ایک نیا موقف اپنائے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کسی صورت آصف علی زرداری کو صدر بنانے کی حمایت نہیں کرسکتے۔ سرحد اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے پارلیمانی رہنما اکرم خان درانی نے کہا کہ اس وقت فاٹا بالخصوص باجوڑ میں آپریشن کی وجہ سے لاکھوں عوام نقل مکانی کر کے بے سروسامانی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان لوگوں کو حکومت کی طرف سے سہولیات مہیا نہیں کی گئیں۔

’قرارداد غیرضروری‘
 الیکشن شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد اس قسم کی قرارداد کا ایوان میں پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا لہٰذا وہ اس قرارداد کی حمایت نہیں کرسکتے
شیرپاؤ
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت آصف زرداری کی بطور صدر نامزدگی کی نہ صرف مخالفت کرےگی بلکہ رائے شماری کے دوران ان کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کریں گے۔

پیپلز پارٹی شیر پاؤ کے مرکزی سیکرٹری جنرل سکندر حیات شیرپاؤ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد اس قسم کی قرارداد کا ایوان میں پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا لہٰذا وہ اس قرارداد کی حمایت نہیں کرسکتے جس کے بعد تینوں جماعتوں کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔

مسلم لیگ (ق) کے ارکان قرارداد کی مخالفت کےلئے ایوان میں موجود رہے۔مسلم لیگ (ق) کے خاتون رکن نگہت اورکزئی نے اس موقع پر پیپلز پارٹی کی پالیسیوں اور آصف زرداری پر شدید تنقید کی اور کہا کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے ذریعے اربوں روپے کی کرپشن کرنے والا شخص پاکستان کا صدر نہیں بن سکتا۔

 آصف زرداری آگے سیاست ہے
یہاں سے آگے نہ کوئی اصول ہے نہ کوئی نظریہ۔
آصف زرداری’صدر آصف زرداری‘
صدرات کے لیے آصف زرداری کا بھی نام سامنے
زرداریادی فریال اور تیاریاں
سندھ میں صدر کے انتخاب میں دلچسپی
جمہوری عمل کی فتح
’اس معرکے کا اصل ہیرو جمہوری عمل ہے‘
اسی بارے میں
پیپلز پارٹی کی مشروط حمایت
23 August, 2008 | پاکستان
صدر کا انتخاب چھ ستمبر کو
22 August, 2008 | پاکستان
’صدارت سندھ کا حق ہے‘
22 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد