BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 August, 2008, 07:46 GMT 12:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر کا انتخاب چھ ستمبر کو

فائل فوٹو
پاکستان کا نیا صدر منتخب کرنے کے لیے کاغذات نامزدگی چھبیس اگست دن بارہ بجے تک وصول کیے جائیں گے
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے ملک کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے شیڈول جاری کردیا ہے جس کے مطابق پولنگ چھ ستمبر کو ہوگی۔

الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد نے جمعہ کو ایک نیوز بریفنگ میں صدارتی شیڈول کا اعلان کیا اور کہا کہ اٹھارہ اگست کو پرویز مشرف کے
صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے یہ شیڈول جاری کیا ہے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان کا نیا صدر منتخب کرنے کے لیے کاغذات نامزدگی چھبیس اگست دن بارہ بجے تک وصول کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن اسلام آباد اور چاروں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے دفاتر سے وصول اور جمع کیے جائیں گے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے مزید بتایا کہ صدارتی امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال اٹھائیس اگست کو ہوگی اور تیس اگست تک کوئی بھی امیدوار اپنا نامزدگی فارم واپس لے سکے گا اور اُسی روز حتمی فہرست کا اعلان ہوگا۔

ان کے مطابق نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ چھ ستمبر سنیچر کے روز قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح دس سے شام تین بجے تک ہوگی۔

 صدارتی امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال اٹھائیس اگست کو ہوگی اور تیس اگست تک کوئی بھی امیدوار اپنا نامزدگی فارم واپس لے سکے گا اور اُسی روز حتمی فہرست کا اعلان ہوگا۔
انتخابی کمیشن
اسلام آباد میں پرزائیڈنگ افسر چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق ہوں گے جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے پرزائیڈنگ افسران متعلقہ صوبے کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز ہوں گے۔

صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان پولنگ ختم ہونے کے فوری بعد کیا جائے گا لیکن نو منتخب صدر حلف اس وقت اٹھائے گا جب الیکشن کمیشن حتمی سرکاری نتائج کا اعلان کرے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی کوشش ہوگی کہ ملک کا نیا صدر بلا مقابلا منتخب ہوں۔ اس حکمران جماعت کی مجلس عاملہ کا اجلاس آج ہورہا ہے جس میں صدارتی امیدوار کے بارے میں غور ہوگا۔

واضح رہے کہ صدارتی انتخاب میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل گیارہ سو ستر اراکین ووٹ ڈالتے ہیں۔

سینیٹ کے اراکین کی تعداد ایک سو، قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس، پنجاب اسمبلی کے تین سو اکہتر، سندھ اسمبلی کے ایک سو اڑسٹھ، سرحد اسمبلی کے ایک سو چوبیس اور بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد پینسٹھ ہے۔

مستعفی ہونے والے صدر پرویز مشرف گزشتہ برس چھ اکتوبر کو صدر منتخب ہوئے تھے اور اس کے محض گیارہ ماہ بعد اب صدر کا دوسری بار انتخاب ہورہا ہے۔

پاکستان میں نئے صدر کے انتخاب کا شیڈول تو آگیا ہے لیکن تاحال حکمران اتحاد نے کسی مشترکہ امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ہاں البتہ متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے حکمران اتحاد کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا نام تجویز کیا ہے۔ جس کی حمایت پیپلز پارٹی نے بھی کی ہے۔

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی جانب سے آصف علی زرداری کو ملک کا نیا صدر بنانے کا فیصلے اپنی جگہ لیکن آصف علی زرداری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ ملک کا صدر بننے پر اپنی پارٹی کی سربراہی کے عہدے کو ترجیح دیں گے۔

ایسے میں پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے صدر کا امیدوار آفتاب شعبان میرانی یا قائم علی شاہ جیسا کوئی پارٹی کا بزرگ اور وفادار شخص ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ان کے بقول ابھی تک صدر کے پاس اسمبلی توڑنے، اعلیٰ عدالتوں کے جج، فوجی سربراہان اور گورنر بھرتی کرنے جیسے بڑے اختیارات حاصل ہیں۔

جسٹس خواجہ شریف’آمر کو سزا دیں‘
’فوج کا غیر جانبدارانہ کردار خوش آئند‘
سابق صدر پرویز مشرفمشرف کے نو سال
آرمی چیف سےملک کے صدر کی کرسی تک
مشرفمشرف کا استعفیٰ
کوئی مخصوص فارمولا پیش نہیں کیا: برطانیہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد