صدر کا انتخاب چھ ستمبر کو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے ملک کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے شیڈول جاری کردیا ہے جس کے مطابق پولنگ چھ ستمبر کو ہوگی۔ الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد نے جمعہ کو ایک نیوز بریفنگ میں صدارتی شیڈول کا اعلان کیا اور کہا کہ اٹھارہ اگست کو پرویز مشرف کے سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان کا نیا صدر منتخب کرنے کے لیے کاغذات نامزدگی چھبیس اگست دن بارہ بجے تک وصول کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن اسلام آباد اور چاروں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے دفاتر سے وصول اور جمع کیے جائیں گے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے مزید بتایا کہ صدارتی امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال اٹھائیس اگست کو ہوگی اور تیس اگست تک کوئی بھی امیدوار اپنا نامزدگی فارم واپس لے سکے گا اور اُسی روز حتمی فہرست کا اعلان ہوگا۔ ان کے مطابق نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ چھ ستمبر سنیچر کے روز قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح دس سے شام تین بجے تک ہوگی۔ صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان پولنگ ختم ہونے کے فوری بعد کیا جائے گا لیکن نو منتخب صدر حلف اس وقت اٹھائے گا جب الیکشن کمیشن حتمی سرکاری نتائج کا اعلان کرے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی کوشش ہوگی کہ ملک کا نیا صدر بلا مقابلا منتخب ہوں۔ اس حکمران جماعت کی مجلس عاملہ کا اجلاس آج ہورہا ہے جس میں صدارتی امیدوار کے بارے میں غور ہوگا۔ واضح رہے کہ صدارتی انتخاب میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل گیارہ سو ستر اراکین ووٹ ڈالتے ہیں۔ سینیٹ کے اراکین کی تعداد ایک سو، قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس، پنجاب اسمبلی کے تین سو اکہتر، سندھ اسمبلی کے ایک سو اڑسٹھ، سرحد اسمبلی کے ایک سو چوبیس اور بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد پینسٹھ ہے۔ مستعفی ہونے والے صدر پرویز مشرف گزشتہ برس چھ اکتوبر کو صدر منتخب ہوئے تھے اور اس کے محض گیارہ ماہ بعد اب صدر کا دوسری بار انتخاب ہورہا ہے۔ پاکستان میں نئے صدر کے انتخاب کا شیڈول تو آگیا ہے لیکن تاحال حکمران اتحاد نے کسی مشترکہ امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ہاں البتہ متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے حکمران اتحاد کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا نام تجویز کیا ہے۔ جس کی حمایت پیپلز پارٹی نے بھی کی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی جانب سے آصف علی زرداری کو ملک کا نیا صدر بنانے کا فیصلے اپنی جگہ لیکن آصف علی زرداری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ ملک کا صدر بننے پر اپنی پارٹی کی سربراہی کے عہدے کو ترجیح دیں گے۔ ایسے میں پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے صدر کا امیدوار آفتاب شعبان میرانی یا قائم علی شاہ جیسا کوئی پارٹی کا بزرگ اور وفادار شخص ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ان کے بقول ابھی تک صدر کے پاس اسمبلی توڑنے، اعلیٰ عدالتوں کے جج، فوجی سربراہان اور گورنر بھرتی کرنے جیسے بڑے اختیارات حاصل ہیں۔ |
اسی بارے میں مشرف کے خلاف مقدمات کا مطالبہ22 August, 2008 | پاکستان اجلاس ختم، نہ کوئی فیصلہ نہ اعلان19 August, 2008 | پاکستان یوم نجات، ججوں کی بحالی کا مطالبہ19 August, 2008 | پاکستان معزول ججوں کی بحالی پر فیصلہ آج19 August, 2008 | پاکستان مشرف مستعفی، نو سالہ دور ختم18 August, 2008 | پاکستان اجلاس: ججوں کا معاملہ سر فہرست18 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||