BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 August, 2008, 01:59 GMT 06:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے خلاف مقدمات کا مطالبہ

پاکستانی وکلاء
صدر مشرف کے استعفی کے بعد احتجاجی وکلاء نےبھی اپنے نعرے بدل لیے
پاکستان میں اعلیْ عدلیہ کی بحالی کے لیے وکلاء نے جمعرات کو ہفتہ وار ملک گیر احتجاج کیا اور صدر پرویز مشرف کے مستعفیْ ہونے کے بعد اپنے مطالبات اور نعرے کو نئے رنگ میں ڈھال لیا ہے۔

پاکستان بارکونسل کے فیصلے کی روشنی میں وکیلوں نے ہڑتال کی اور احتجاجی اجلاسوں کے بعد ریلیاں نکالیں ۔صدر پرویز مشرف کے استعفیْ دینے کے بعد وکلاء کا یہ پہلا ہفتہ وار احتجاج تھا جس میں وکیلوں نے گو مشرف گو کی جگہ سابق صدر کے خلاف کارروائی کرنے کے حق میں نعرے لگائے۔

وکلا رہنماؤں نے احتجاجی اجلاسوں میں اعلان اسلام آباد کے تحت ججوں کو بحال کرنے اور سابق صدر مشرف کے خلاف کارروائی کرنے کے مطالبات کیے۔

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار کے الگ الگ اجلاس ہوئے جس میں حکمران اتحاد سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ وعدہ کے مطابق جج کو بحال کریں گے۔

ان اجلاسوں کے بعد وکلا نے ضلعی بار ایسوسی سے ایک جلوس نکالا جس میں اے پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شامل ہوئے لیکن مسلم لیگ نون کے کارکن جو وکیلوں کے ہفتہ وار احتجاج کا حصہ رہے ہیں، جلوس میں دکھائی نہیں دیئے۔

پنجاب اسمبلی کے سامنے خطاب میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور کمال نے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو متبنہ کیا کہ اگرعدلیہ کو دو نومبر والی پوزیش پر بحال نہ کیاگیا تو وکلاء تحریک چلائیں گے اور نہ خود چین سے بیٹھیں گے اور نہ کسی کو بیٹھنے دیں گے۔

وکیل اپنے رہنماؤں کی تقاریر کے بعد پرامن طور منتشر ہوگئے

ادھر کراچی میں وکیلوں نے ہفتہ وار احتجاج کرتےہوئے سٹی کورٹس سے پریس کلب تک ایک ریلی جس میں وکلاء کے ساتھ اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے کارکن بھی شریک ہوئے۔ سندھ ہائی کورٹ بار کےصدر رشید اے رضوی کا کہنا ہے ججوں کی بحالی کے لیے بہتر گھنٹوں کی جو مہلت دی گئی ہے وہ بائیس اگست کو ختم ہو رہی ہے اور اگر اس عرصہ میں جج بحال نہیں ہوتے تو وکلاء کے ترکش میں سول نافرمانی، عدالتوں کی بندی، بھوک ہڑتال اور دھرنے کے تیر ابھی موجود ہیں۔

پشاور میں بھی وکلاء نے احتجاج کیا اور پشاور ہائی کورٹ بار کے اجلاس میں ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں سابق صدر پرویز کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرکے ان سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

اجلاس میں وکلاء رہنماؤں نےکہا کہ وہ مائنس ون فارمولے کو تسلیم نہیں کرتے اور عدلیہ کی بحالی تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

ملک کے دیگر حصوں کی طرح کوئٹہ میں وکلاء نے احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ضلعی بار ایسوسی ایشن سے کوئٹہ پریس کلب تک ریلی نکالی۔

اسی بارے میں
مشرف کا احتساب ہو: اعتزاز
16 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد