’کنونشن‘ کے خلاف بار کونسل اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بار کونسل کے چھ ارکان نے لاہور میں ہونے والی وکلاء کانفرنس کے انعقاد کے خلاف کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے جو چھبیس جولائی کو اسلام آباد میں ہوگا۔ یہ اجلاس پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے بار کے ارکان سینیٹر سردار لطیف کھوسہ، راجہ شفقت عباسی، کاظم خان کے علاوہ مرزا عزیز اکبر بیگ، اشرف واہلہ اور رمضان چودھری کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ معزول چیف جسٹس چھبیس جولائی کو پنجاب کے جنوبی شہر بہاولپور سے خطاب کررہے ہیں۔ دوسری جانب وکلاء کانفرنس میں شرکت کرنے والے بار کونسل کے پانچ ارکان نےاس اجلاس کو چھبیس کے بجائے اٹھائیس جولائی کو طلب کرنے کی درخواست دے دی ہے۔ پاکستان بار کونسل پورے ملک کے وکلا کی نمائندہ تنظیم ہے اور اس کے پاکستان بھر سے بائیس منتخب ارکان ہیں۔ بارکونسل کے پانچ ارکان کی درخواست پر کسی وقت بھی کسی معاملے پر غور کرنے کے لیے اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے۔ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک بھی پاکستان بارکونسل کے رکن ہیں۔ عزیز اکبر بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ بارکونسل کے چھ ارکان نے دو نکاتی ایجنڈے پر اجلاس طلب کرنے کے لیے درخواست دی۔ ان کے بقول لاہور میں جو وکلاء کانفرنس پاکستان بارکونسل کے نام سے منعقد کیا گیا ہے اس کی منظوری بار کونسل نے نہیں دی اس لیے اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے چھبیس جولائی کے اجلاس میں اعتزاز احسن کی طرف سے بار کونسل پر نکتہ چینی کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا جائےگا۔ ادھر وکلاء کانفرنس کے بعد پاکستان بارکونسل کے رکن حامد خان نے بتایا کہ ایک ماہ قبل پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں وکلاء کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس فیصلے پر نہ تو کوئی اعتراض کیا گیا اورنہ ہی اس کو تبدیل کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس موقع پر اجلاس کے خلاف ریکوزیشن پیش کرنا وکلاء تحریک کے خلاف ایک سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سمیت پانچ ارکان جن میں علی احمد کرد، رشید اے رضوی ، امداد اعوان اور کنڈی شامل ہیں نے ایک درخواست دی کہ جس میں کہاگیا کہ وہ چھبیس جولائی کو بہاولپور میں ہیں اس لیے یہ اجلاس اٹھائیس جولائی کو بلایا جائے۔ حامد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان بارکونسل کے اجلاس میں وکلاء کانفرنس میں کیے تمام فیصلوں کی اکثریت سے توثیق کردی جائے گی۔ حامد خان کی ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو کے دوران موجود وکلاء نے کانفرنس کے انعقاد کے خلاف بار کونسل کا اجلاس طلب کرنے والوں کے خلاف نعرے لگائے۔ | اسی بارے میں ججوں کی بحالی،مہلت14اگست19 July, 2008 | پاکستان جسٹس ڈوگر کی آمد پر احتجاج18 July, 2008 | پاکستان بیس جولائی کو یوم آزادی عدلیہ18 July, 2008 | پاکستان سول سوسائٹی: نئی تحریک تیار 16 July, 2008 | پاکستان ’عدالتی بحران کا اثر پوری دنیا پر‘ 18 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||