BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 July, 2008, 18:16 GMT 23:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیس جولائی کو یوم آزادی عدلیہ

لانگ مارچ
وکلاء کا موقف ہے کہ عدلیہ اور معزول ججوں کو بحال کیا جائے
پاکستان کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس سال سے ملک بھر میں بیس جولائی کو یوم آزادی عدلیہ جبکہ تین نومبر کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن نے بار کی ایگزیکٹو کمیٹی کےاجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ نے پچھلے سال بیس جولائی کو جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کا جوفیصلہ دیا وہ ملکی تاریخ میں بینظیر ہے۔اس لیے ہرسال بیس جولائی کو یوم آزادی عدلیہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس بیس جولائی کو سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلے کے ذریعے صدر پرویز مشرف کی طرف سے جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر ریفرنس کالعدم قرار دیا تھا جبکہ تین نومبر کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگا کر اعلیْ عدلیہ کے ساٹھ ججوں کو پی سی او کے تحت ان کے عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔

اعتزاز احسن اور جسٹس افتخار محمد چوھدری
بیس جولائی کو سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلے کے ذریعے صدر مشرف کی طرف سے جسٹس افتخار کے خلاف دائر ریفرنس کالعدم قرار دیا تھا

اعتزاز احسن نے کہا کہ اس سال بیس جولائی کو اتوار کی وجہ سے ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز اکیس جولائی کو یوم آزادی عدلیہ منائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کا فیصلہ دینے والے ان ججوں کی تصاویر بار ایسوسی ایشنز میں لگائی جائیں گی جنہوں نے پی سی او کا حلف نہیں اٹھایا۔

سپریم کورٹ بار کے صدر نے جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے کراچی میں بار میں خطاب کے موقع وکلاء کی گرفتاری کی شدید مذمت کی۔ ان کے بقول معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے جس بار ایسوسی ایشن کا بھی دورہ کیا وہاں ان کا زبردست خیر مقدم کیا گیا جبکہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا استقبال اس کے برعکس رہا ہے۔

اعتزاز احسن نے ایک سوال کے جواب میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر سردار لطیف کھوسہ کے موقف کو رد کر دیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کو بار ایسوسی ایشن سے خطاب نہیں کرنا چاہئیے۔ان کے بقول پہلے جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو روکیں۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹسز کے بار کو خطاب کرنے کی روایت موجود ہے تاہم ایسی صورت میں بار سے خطاب نہ کیا جائے جبکہ بار کے عہدیدار ہی اس تقریب میں موجود نہ ہوں۔

پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں آئینی پیکیج پیش کرنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ججوں کی بحالی کے آئینی پیکیج کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جو آئینی پیکیج لاتا ہے وہ دراصل اور درحقیقت تین نومبر کے اقدامات کو آئینی تسلیم کر رہا ہے جن کو بینظیر بھٹو نے غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ معزول چیف جسٹس جولائی کو ملتان سے بہاولپور جائیں گے جہاں وہ وکلاء کنونشن سے خطاب کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد