بیس جولائی کو یوم آزادی عدلیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس سال سے ملک بھر میں بیس جولائی کو یوم آزادی عدلیہ جبکہ تین نومبر کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن نے بار کی ایگزیکٹو کمیٹی کےاجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ نے پچھلے سال بیس جولائی کو جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کا جوفیصلہ دیا وہ ملکی تاریخ میں بینظیر ہے۔اس لیے ہرسال بیس جولائی کو یوم آزادی عدلیہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس بیس جولائی کو سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلے کے ذریعے صدر پرویز مشرف کی طرف سے جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر ریفرنس کالعدم قرار دیا تھا جبکہ تین نومبر کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگا کر اعلیْ عدلیہ کے ساٹھ ججوں کو پی سی او کے تحت ان کے عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ اس سال بیس جولائی کو اتوار کی وجہ سے ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز اکیس جولائی کو یوم آزادی عدلیہ منائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کا فیصلہ دینے والے ان ججوں کی تصاویر بار ایسوسی ایشنز میں لگائی جائیں گی جنہوں نے پی سی او کا حلف نہیں اٹھایا۔ سپریم کورٹ بار کے صدر نے جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے کراچی میں بار میں خطاب کے موقع وکلاء کی گرفتاری کی شدید مذمت کی۔ ان کے بقول معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے جس بار ایسوسی ایشن کا بھی دورہ کیا وہاں ان کا زبردست خیر مقدم کیا گیا جبکہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا استقبال اس کے برعکس رہا ہے۔ اعتزاز احسن نے ایک سوال کے جواب میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر سردار لطیف کھوسہ کے موقف کو رد کر دیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کو بار ایسوسی ایشن سے خطاب نہیں کرنا چاہئیے۔ان کے بقول پہلے جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو روکیں۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹسز کے بار کو خطاب کرنے کی روایت موجود ہے تاہم ایسی صورت میں بار سے خطاب نہ کیا جائے جبکہ بار کے عہدیدار ہی اس تقریب میں موجود نہ ہوں۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں آئینی پیکیج پیش کرنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ججوں کی بحالی کے آئینی پیکیج کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جو آئینی پیکیج لاتا ہے وہ دراصل اور درحقیقت تین نومبر کے اقدامات کو آئینی تسلیم کر رہا ہے جن کو بینظیر بھٹو نے غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ معزول چیف جسٹس جولائی کو ملتان سے بہاولپور جائیں گے جہاں وہ وکلاء کنونشن سے خطاب کریں گے۔ | اسی بارے میں ’ہمارے صبر کا امتحان نہ لیں‘ 10 July, 2008 | پاکستان ’وکلاء احتجاج پر نظرِ ثانی کریں‘09 July, 2008 | پاکستان ڈوگر کو نہ بلائیں: اعتزاز کی اپیل09 July, 2008 | پاکستان دوبارہ لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان02 July, 2008 | پاکستان انٹرنیشنل لائیرز کنونشن کا اعلان21 June, 2008 | پاکستان اے پی ڈی ایم: پیش رفت نہیں ہوئی19 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ کے مقاصدپورے:اعتزاز16 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ کے بعد اٹھنے والے سوالات14 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||