ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد |  |
 | | | وکلاء پہلے بھی اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کر چکے ہیں |
وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ رحمن ملک نے وکلاء سے اپیل کی ہے کہ وہ اسلام آباد میں خودکش حملہ کے بعد دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر اپنے احتجاج کے شیڈول پر نظرثانی کریں۔ بدھ کو جاری ہونے والے بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں خودکش حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں خودکش حملہ میں سترہ پولیس اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کردیں جنہیں ایک خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا۔ لہذا وکلاء برادری دہشت گردی کے خطرات اور خدشات کے پیش نظر احتجاج کے شیڈول پر نظرثانی کرے اور اپنے احتجاج کو سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے تک ملتوی کر دے۔ ملک بھر کی بار بالخصوص ہائی کورٹ کی بار ایسوسی ایشن نے لاہور میں ایک اجلاس میں دس جولائی اور اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم لاہور میں سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن نے حکومت سے کہا ہے کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ وکیل ریلی نہ نکالیں تو وہ جج بحال کر دے۔ تاہم مشیر داخلہ نے واضح کیا کہ وہ وکلاء کی ریلی روکنے کی ہرگز کوشش نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ریلی کو مکمل سکیورٹی مہیا کریں گے۔ |