BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 July, 2008, 12:57 GMT 17:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہمارے صبر کا امتحان نہ لیں‘

اسلام آباد میں وکلاء کی پولیس سے ہاتھا پائی بھی ہوئی
وکلاء برادری نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان کے صبر کا امتحان نہ لے جبکہ سپریم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے تجویز دی ہے کہ ہر جمعرات کو ملک بھر کی بارایسوسی ایشنز اپنے اپنے شہر کے اہم مقامات پر دو گھنٹے کے لیے دھرنا دیں۔

اعتزاز احسن نے یہ تجویز جمعرات کو عدلیہ کی بحالی کے ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دی۔

لاہور میں ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ اور احتجاجی جلوس نکالا۔

اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے راولپنڈی، اسلام آباد ، چکوال اور اٹک کے وکلاء نے احتجاجی دھرنا دیا۔

اپنے خطاب میں پاکستان بار کونسل کے رُکن حامد خان نے کہا کہ حکومت وکلاء کے صبر کا امتحان نہ لے اور پاکستانی عوام پی سی او ججز کو نہیں مانتے اور یہ کہ اُن افراد کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے جنہوں نے آئین سے انحراف کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء کی اس تحریک کے مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے وکلاء کے نمائندوں کا ایک اہم اجلاس اُنیس جولائی کو ہوگا۔

اس موقع پر مظاہرین نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف نعرے لگائے

مظاہرین نے صدر مشرف کے خلاف نعرے بازی بھی کی

جب ریلی کے شرکاء شاہراہ دستور سے سپریم کورٹ کی عمارت کی طرف جانے لگے تو پولیس اہلکاروں کے ساتھ اُن کی ہاتھا پائی بھی ہوئی تاہم وکلاء کے ہاتھوں میں’ کٹر‘ تھے جس سے انہوں نے سڑک پر بچھائی گئی لوہے کی تاروں کو کاٹ دیا اور وہ سپریم کورٹ کے سامنے جمع ہوگئے۔

مظاہرین کے مقابلے میں پولیس اہلکاروں کی تعداد کم تھی اور صورتحال دیکھتے ہوئے پولیس اہلکار ایک طرف ہوگئے۔

لاہور میں خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہاکہ ہفتہ وار دو گھنٹوں کے لیے دھرنے کی تجویز انیس جولائی کو لاہور میں ہونے والے وکلاء کنونشن میں منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔

ان کے بقول دو گھنٹوں تک ہر جمعرات کو دھرنا دینا موثر اور قابل عمل تجویز ہے۔

انہوں نے ملک کی مختلف ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنوں کی طرف سے عدالتوں کی تالابندی کرنے کی تجویز کی مخالفت کی ۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وکلاء قیادت کو عدالتوں کی تالا بندی کرانے سے پہلے ہی گرفتار کرلیا جائے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے انکشاف کیا کہ حکومت معزول ججوں سے رابطے کررہی ہے لیکن ’اگر کسی جج نے جسٹس افتخار محمد چودھری کے بغیر حلف لیا تو وکلاء انہیں پی سی او جج تصور کریں گے۔‘

دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے لاہور کی ضلعی بار سے خطاب کرتے ہوئےآئینی پیکیج پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ اس پیکیج کے ذریعے صدر پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کو تحفظ دیا جارہا ہے۔

قاضی حسین نے فنانس بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھنے کی مخالفت کی اور کہا کہ ججوں کی تعداد بڑھنے کا مقصد صرف پی سی او ججوں کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھنا ہے۔

قاضی حسین احمد کے خطاب کے بعد وکلاء نے ایوان عدل سے جلوس نکالا اور یہ جلوس ہائی کورٹ کے سامنے پہنچا تو سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن کی قیادت میں ہائی کورٹ بار کے وکیل بھی شامل ہوگئے۔

اعتزاز احسناعتزاز کا موبائل پیغام
’میں اعتزاز احسن آپ سے مخاطب ہوں‘
اعتزاز احسناعتزاز کا خط
جنوری کے آخر میں ایک جیوڈیشل بس
اعتزاز احسن اور جسٹس افتخارعدلیہ کی آزادی
لانگ مارچ کا تیسرا اور آخری مرحلہ
وکلاء کا احتجاج وکلاء کا احتجاج
ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کا احتجاج جاری
کراچیکراچی میں تشدد
بدھ کو کراچی میں کئی گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں
دراب پٹیل ایوارڈ
وکلاء برادری کا یہ ایوارڈ منیرملک نے وصول کیا
وکلاء کی ہڑتالہفتہ اظہار یکجہتی
کراچی میں وکلاء کا مکمل بائیکاٹ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد