BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 June, 2008, 13:37 GMT 18:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے پی ڈی ایم: پیش رفت نہیں ہوئی

اے پی ڈی ایم
اپ پی ڈی ایم وکلاء اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کوئی لائحہ عمل اختیار کرے گی
کل جماعتی جمہوری تحریک یا اے پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتوں نے دو روز کی طویل مشاورت میں ایک مرتبہ پھر معزول ججوں کی بحالی اور صدر پرویز مشرف کو ہٹانے کے معاملے پر فی الحال دنگل میں کودنے کی بجائے ایک مرتبہ پھر کنارے پر کھڑے تماشہ دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دو روز پر محیط اجلاس اور پچاس سے زائد تقاریر کے بعد آل پارٹیز کانفرنس کے اجلاس سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ اے پی ڈی ایم قوم کو محض دو ہفتوں کے مزید انتظار کی تلقین ہی کر سکی۔ یہ انتظار کی کوفت قوم کو وکلاء اور دیگر سیاسی جماعتوں سے اتحاد کی مشاورت کے لیے برداشت کرنا پڑے گی۔

کچھ ناقدین کے خیال میں ان تاخیری حربوں کی وجہ شاید اتحاد میں خود اعتمادی کی کمی ہے۔ اسے شک ہے کہ شاید اسے عوام میں وہ پذیرائی بھی نہ مل پائے جو وکلاء کے لانگ مارچ کے حصے میں آئی ہے۔ اسی لیے وہ کوئی اکیلا ’شو‘ کرنے سے کترا رہی ہے۔ اور شاید اسی لیے وہ وکلاء سے مشاورت کر کے ہی کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہتی ہیں۔

آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ ان سیاسی جماعتوں کا مجموعہ ہے جنہوں نے اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کا صدر پرویز مشرف کے زیر انتظام ہونے اور معزول ججوں کی بحالی کے معاملات پر بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا فیصلہ اس وقت یقیناً اصولی تو تھا لیکن دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انتخابات میں شرکت کے فیصلے کے بعد ان کے بائیکاٹ کی حیثیت بعض لوگوں کی نظر میں بےمعنی ہوگئی تھی۔

اے پی ڈی ایم
اے پی ڈی ایم میں جماعت اسلامی ہی ہے جو کوئی ’سٹریٹ پارو‘ کی حامل ہے

لیکن اب جبکہ دونوں حکمران جماعتیں معزول ججوں کے معاملے پر عوام کو ’لٹکائے‘ ہوئے ہیں اے پی ڈی ایم، جو پارلیمان کے باہر ایک موثر حزب اختلاف کا کردار ادا کرسکتی ہے، لیت و لعل سے کام لیتی دکھائی دیتی ہے۔ اسی وجہ سے موجودہ حکومت پر ججوں کے مسئلے پر کسی دباؤ کے آثار نہیں ہیں۔ اور وہ اسی وجہ سے کسی جلدی میں بھی نہیں ہے۔

پارلیمان کے اندر حزب اختلاف نے اب تک حکومت کو کوئی خاص آنکھیں نہیں دکھائی ہیں۔ وہ کسی ایجنڈے کے بغیر ہے۔ اگرچہ وہ کہتی رہی ہے کہ وہ حکومت کو ججوں کی بحالی کا وعدہ یاد دلاتی رہے گی لیکن کچھ عرصہ سے اسے اپنا ہی یہ وعدہ بھولا ہوا ہے۔ دوسری جانب پارلیمان سے باہر اے پی ڈی ایم کوئی پلیٹ فارم مہیا کرنے سے بچنے کی کوشش میں لگی ہے۔

بعض مبصرین کے خیال میں اے پی ڈی ایم سے توقعات وابستہ کرنا ہی خام خیالی ہے۔ اصولی موقف اور سوچ اپنی جگہ، ایک جماعت اسلامی ہی ہے جو کوئی ’سٹریٹ پارو‘ کی حامل ہے۔ باقی اپنے اپنے حلقوں میں ضرور حمایت رکھتے ہوں لیکن قومی سطح پر کارکن جمع کرنا شاید سب کے بس کی بات نہ ہو۔

دوسری جانب وکلاء برادری بھی بظاہر ایک کامیاب لانگ مارچ کے بعد فی الحال کسی دوسرے مارچ کی جلدی میں نہیں۔ دھرنا نہ دینے پر شدید اختلاف بھی سامنے آیا ہے جسے ختم کرنے کی کوشش میں اعتزاز احسن پریس کانفرنسیں اور ٹی وی چینلز کو انٹرویوز دے رہے ہیں۔ وہ یہ بھی واضح کرتے نظر آ رہے ہیں کہ وکلاء تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی۔

اے پی ڈی ایم
اے پی ڈی ایم کو معلوم ہے کہ جو عوامی سیلاب لانگ مارچ میں نظر آیا تھا روز روز سامنے نہیں آتا

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اکیس اور پاکستان بار کونسل اٹھائیس جون کو آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرے گی۔ ان کے فیصلوں کی روشنی میں جولائی کے پہلے ہفتے میں اے پی ڈی ایم بھی کچھ سوچے گی۔ لیکن انہیں معلوم ہے کہ جو عوامی سیلاب لانگ مارچ میں نظر آیا تھا روز روز سامنے نہیں آتا۔

دوسرا وکلاء کسی سیاسی جماعت یا اتحاد کو ان کے احتجاج میں شرکت سے تو نہیں روکتے لیکن وہ اس احتجاج کا ’چارج‘ بھی کسی سیاسی جماعت یا اتحاد کے ہاتھ میں دینا نہیں چاہتے۔

ایسے میں فی الحال حکومت کو پورا موقع ہے کہ وہ بجٹ منظور کروائے، آصف زرداری اور نواز شریف حال احوال معمول کرنے کے لیے دو چار مزید ملاقاتیں کریں اور معزول جج اپنے گھروں میں مزید آرام کریں۔ ہر کسی کی سیاست کہیں نہ کہیں جا کر اٹک گئی ہے۔ اس ساری چل چلاؤ کی صورتحال کا فائدہ کسے ہوا؟

اسی بارے میں
’حقائق چھپانے کی کوشش‘
30 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد