’پی پی پی قاف لیگ کا نیا ایڈیشن ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ قاضی حسین احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ این آر او یعنی نیشنل ری کنسیلیئشن آرڈیننس ججوں کی بحالی میں رکاوٹ بنا ہے اور پیپلز پارٹی صدر پرویز مشرف کی مخالفت کا ووٹ لینے کے بعد اب اُن کے نئے ترجمان کا کردار ادا کر رہی ہے۔ قاضی حسین احمد نے منگل کے روز منصورہ سے جاری کردہ اپنے ایک بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کی۔ اُنہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی روش سے لگتا ہے کہ وہ قاف لیگ کا نیا ایڈیشن ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی تو وہ بھی صدر پرویز مشرف اور قاف لیگ کی طرح لوگوں کی نفرت کا نشانہ بن جائے گی۔ جماعت اسلامی کے امیر کا کہنا تھا کہ امریکہ اورصدر مشرف کے دباؤ کی وجہ سے سولہ کروڑ لوگوں کے سامنے کئے جانے والے وعدے کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اُن کے بقول ججوں کی بحالی کیلئے عوامی تحریک چلے گی اور چودہ مئی کو اے پی ڈی ایم اس حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ قوم کے تمام طبقات نے آصف علی زرداری کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا اور وہ قومی مفاہمت کے ذریعے ایک نئے پاکستان کی داغ بیل ڈال سکتے تھے لیکن وہ ذاتی مفادات اور خوف کے اسیر ہو گئے ہیں۔ اُن کے مطابق آصف زرداری پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں سے اپنے اوپر قائم ہر طرح کے مقدمات ختم کروا رہے ہیں اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور برطرف کئے گئے دوسرے ججوں کی بحالی میں عدم دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ آصف زرداری اور پی سی او جج ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف ججوں کی بحالی میں سنجیدہ ہیں تو اُنہیں پیپلز پارٹی کے بجائے کھل کر اے پی ڈی ایم، وکلاء اور سول سوسائٹی کا ساتھ دینا ہوگا۔ اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی مثال ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی جمہوریت اور آئین کی بالادستی کیلیے دی گئی قربانیاں ہیں۔ اُن کے مطابق این آر او کا فائدہ پیپلز پارٹی سے زیادہ ایم کیو ایم یا دیگر سیاسی جماعتوں کو ہوا ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ سیاسی انتقام لینے کیلئے جو جھوٹے مقدمات بنائے گئے تھے وہ این آر او کے ذریعے ختم کئے جا رہے ہیں۔ سینیٹر لطیف کھوسہ کے بقول قاضی حسین احمد اپنے اوپر لگائے گئے الزامات دوسروں کے سر رکھ رہے ہیں اور یہ وہ شخص ہیں جو شروع سے فوجی آمریت کا حصہ رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مشرقی پاکستان میں مارشل لاء کی بی ٹیم کا کردار ادا کیا تھا جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ متحدہ مجلس نے سترہویں ترمیم کو آئینی قرار دیا جس کی وجہ سے آج آمریت ہمارے سر پر سوار ہے۔ | اسی بارے میں ججوں کی بحالی لازم ہے: ہاشمی25 April, 2008 | پاکستان ’ججز 30 دن میں بحال ہو جائیں گے‘25 March, 2008 | پاکستان امریکی وفد کی ججوں سے ملاقات27 March, 2008 | پاکستان ’ججوں کی بحالی، قرار داد کافی ہے‘16 March, 2008 | پاکستان عدلیہ کی بحالی پر اتفاق09 March, 2008 | پاکستان بارہ مئی بھول جائیں: اعتزاز احسن05 March, 2008 | پاکستان ’نئی اسمبلی کو تین ہفتے دیں گے‘20 December, 2007 | پاکستان ’آئینی طور پر میں ابھی بھی جسٹس ہوں‘12 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||