BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 June, 2008, 10:43 GMT 15:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سول نافرمانی کی دھمکی

اے پی ڈی ایم
عمران خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وہ سب دھرنے اور احتجاج پر متفق ہیں
کل جماعتی جمہوری موومنٹ یا اے پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں مجبور کیا گیا تو وہ سول نافرمانی اور پی سی ججوں کے گھیراو جیسے اقدامات کرسکتے ہیں تاہم اس بارے میں کوئی فیصلہ آئندہ ماہ جولائی میں وکلاء برادری سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کے رہنما میاں اسلم کی رہائش گاہ پر دو روزہ قومی کانفرنس کے اختتام پر طویل مشترکہ اعلامیے میں ڈاکٹر قدیر اور لال مسجد جیسے معاملات کا ذکر نہ تھا۔ تاہم صحافیوں نے اس معاملے سے متعلق سوال پوچھے۔

اے پی ڈی ایم کے کنوینر محمود خان اچکزئی نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔ ان کا موقف تھا کہ اتحاد کے تمام آپشنز کھلے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ انہوں نے کسی کو پتھر نہیں مارنا اور نہ کسی کو گالیاں دینی ہیں۔ ’لیکن اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو ہم حکومت کے خلاف ہر راست اقدام کریں گے۔ پی سی او ججوں کا گھیراؤ اور حکومت کے خلاف سول نافرمانی تحریک بھی شروع کی جاسکتی ہے۔‘

کانفرنس کے بیس سے زائد مطالبات میں صدر پرویز مشرف کے فوری مستعفی ہونے اور اعلی عدالتوں کی دو نومبر کی حالت میں بحالی کے مطالبات سرفہرست رہے۔

اے پی ڈی ایم اعلامیہ
 لیکن اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو ہم حکومت کے خلاف ہر راست اقدام کریں گے۔ پی سی او ججوں کا گھیراؤ اور حکومت کے خلاف سول نافرمانی تحریک بھی شروع کی جاسکتی ہے
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ان کا عوام اور اللہ سے وعدہ ہے کہ جب تک صدر مشرف مستعفی اور جج بحال نہیں ہوتے تحریک کی جدوجہد جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء، سابق فوجی افسران اور دیگر ساتھیوں سے مشاورت کے بعد جولائی کے پہلے ہفتے میں مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

اس موقع پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے چلائی جانے والی تحریک کی روح رواں آمنہ جنجوعہ نے محمود خان اور دیگر قائدین سے آج دھرنا دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کوئی دس منٹ تک جاری رہنے والی تقریر میں موقف تھا کہ اگر اے پی ڈی ایم آج دھرنے کا اعلان کرے تو ابھی یہاں موجود سب لوگ اس کے لیے تیار ہیں۔

اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ سب دھرنے اور احتجاج پر متفق ہیں لیکن وکلاء کی مشاورت سے اگلا قدم اٹھانا چاہتے ہیں تاکہ لانگ مارچ والی صورتحال پیدا نہ ہو۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جولائی میں ان کو اچھی خبر سننے کو ملے گی۔

اعلامیے میں الزام عائد کیا گیا کہ نئی حکومت اعلان بھوربن سے پیچھے ہٹ چکی ہے اور وہ صدر پرویز مشرف سے ایسے گٹھ جوڑ کرکے ایسے راستوں کی تلاش میں ہے جس سے برطرف ججوں کی بحالی کے معاملے کو محدود رکھا جاسکے۔

اے پی ڈی ایم ان جماعتوں کا اتحاد ہے جنہوں نے اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کا صدر معزول ججوں اور صدر پرویز مشرف کی وجہ سے بائیکاٹ کیا تھا۔ اتحاد نے آج پیپلز پارٹی کے مجوزہ آئینی پیکیج کو تین نومبر کے صدر مشرف کے اقدامات کو تحفظ دینے اور عدلیہ کو حکومت کے سامنے جھکانے کے مترادف قرار دیا۔

اتحاد نے بلوچستان میں جاری مبینہ فوجی کارروائی کے فوری خاتمے اور نواب اکبر خان بگٹی، بالاچ مری اور دیگر افراد کے قتل کی ’آزاد‘ عدلیہ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

اے پی ڈی ایم کے فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتحاد نے مشاورت کی خاطر بظاہر ایک مرتبہ پھر حکومت سے براہ راست تصادم سے گریز کیا ہے۔

اسی بارے میں
لندن میں مذاکرات ناکام
09 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد