سول نافرمانی کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کل جماعتی جمہوری موومنٹ یا اے پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں مجبور کیا گیا تو وہ سول نافرمانی اور پی سی ججوں کے گھیراو جیسے اقدامات کرسکتے ہیں تاہم اس بارے میں کوئی فیصلہ آئندہ ماہ جولائی میں وکلاء برادری سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے رہنما میاں اسلم کی رہائش گاہ پر دو روزہ قومی کانفرنس کے اختتام پر طویل مشترکہ اعلامیے میں ڈاکٹر قدیر اور لال مسجد جیسے معاملات کا ذکر نہ تھا۔ تاہم صحافیوں نے اس معاملے سے متعلق سوال پوچھے۔ اے پی ڈی ایم کے کنوینر محمود خان اچکزئی نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔ ان کا موقف تھا کہ اتحاد کے تمام آپشنز کھلے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ انہوں نے کسی کو پتھر نہیں مارنا اور نہ کسی کو گالیاں دینی ہیں۔ ’لیکن اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو ہم حکومت کے خلاف ہر راست اقدام کریں گے۔ پی سی او ججوں کا گھیراؤ اور حکومت کے خلاف سول نافرمانی تحریک بھی شروع کی جاسکتی ہے۔‘ کانفرنس کے بیس سے زائد مطالبات میں صدر پرویز مشرف کے فوری مستعفی ہونے اور اعلی عدالتوں کی دو نومبر کی حالت میں بحالی کے مطالبات سرفہرست رہے۔
اس موقع پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے چلائی جانے والی تحریک کی روح رواں آمنہ جنجوعہ نے محمود خان اور دیگر قائدین سے آج دھرنا دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کوئی دس منٹ تک جاری رہنے والی تقریر میں موقف تھا کہ اگر اے پی ڈی ایم آج دھرنے کا اعلان کرے تو ابھی یہاں موجود سب لوگ اس کے لیے تیار ہیں۔ اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ سب دھرنے اور احتجاج پر متفق ہیں لیکن وکلاء کی مشاورت سے اگلا قدم اٹھانا چاہتے ہیں تاکہ لانگ مارچ والی صورتحال پیدا نہ ہو۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جولائی میں ان کو اچھی خبر سننے کو ملے گی۔ اعلامیے میں الزام عائد کیا گیا کہ نئی حکومت اعلان بھوربن سے پیچھے ہٹ چکی ہے اور وہ صدر پرویز مشرف سے ایسے گٹھ جوڑ کرکے ایسے راستوں کی تلاش میں ہے جس سے برطرف ججوں کی بحالی کے معاملے کو محدود رکھا جاسکے۔ اے پی ڈی ایم ان جماعتوں کا اتحاد ہے جنہوں نے اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کا صدر معزول ججوں اور صدر پرویز مشرف کی وجہ سے بائیکاٹ کیا تھا۔ اتحاد نے آج پیپلز پارٹی کے مجوزہ آئینی پیکیج کو تین نومبر کے صدر مشرف کے اقدامات کو تحفظ دینے اور عدلیہ کو حکومت کے سامنے جھکانے کے مترادف قرار دیا۔ اتحاد نے بلوچستان میں جاری مبینہ فوجی کارروائی کے فوری خاتمے اور نواب اکبر خان بگٹی، بالاچ مری اور دیگر افراد کے قتل کی ’آزاد‘ عدلیہ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اے پی ڈی ایم کے فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتحاد نے مشاورت کی خاطر بظاہر ایک مرتبہ پھر حکومت سے براہ راست تصادم سے گریز کیا ہے۔ | اسی بارے میں اے پی ڈی ایم کی قومی کانفرنس18 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ کے مقاصدپورے:اعتزاز16 June, 2008 | پاکستان سانحہ کراچی کی برسی پر یوم سیاہ10 May, 2008 | پاکستان ’ججوں کی بحالی: بحران کا خدشہ‘ 10 May, 2008 | پاکستان حکمراں اتحاد کی ڈیڈلائن کی سیاست10 May, 2008 | پاکستان لندن میں مذاکرات ناکام09 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||