ججوں کی بحالی،مہلت14اگست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وکلاء کے منتخب نمائندوں کی کانفرنس میں اعلیْ عدلیہ کے ججوں کی بحالی کے لیے حکومت کو چودہ اگست کی ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور کمال نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ہونے والی آل پاکستان وکلاء نمائندہ کانفرنس کے اختتام پر پریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر اعتزاز احسن، حامد خان ، علی احمد کرد اور طارق محمود بھی موجود تھے۔
انور کمال نے کہا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ چودہ اگست تک ججوں کی بحال نہ ہونے کی صورت میں اگلے ہی روز پندرہ اگست کو وکلاء نمائندہ پر مشتمل قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس راولپنڈی بار میں ہوگا جس میں آئندہ کی حکمت عملی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ججوں کے بحالی کے لیے ملک گیر سطح پر دھرنا دینے، عدالتوں کے بائیکاٹ، ان کی تالا بندی، سول نافرمانی کی تحریک اور گرفتاریاں دینے کی تجویز پر غور کرنے کے بعد احتجاج کے لیے ان میں کسی ایک طریقے کو منتخب کیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے عدلیہ کی بحالی اور آزادی کویقینی نہ بنانا اٹھارہ فروری کے عوام مینڈیٹ سے روگردانی تصور ہوگی۔ انور کمال نے کہا کہ اجلاس میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو خراج تحیسن پیش کیا گیا ان سے کہا گیا کہ وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور ان سازشوں سے چوکنا رہیں جو ان کو تقسیم کرنے اور ان کی اجتماعی بحالی کے لیے جاری تحریک کو نقصان پہنچائیں۔ کانفرنس میں ایک قرار داد کے ذریعے ججوں کی بحالی کےلیے آئینی پیکیج کو مسترد کردیا گیا۔ کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے’گو مشرف گو‘، ’مشرف جو یار ہے، غدردار ہے‘، ’آئے گا دوبارہ، چیف جسٹس‘ اور ’چیف تیرے جان، نثار بے شمار‘ کے نعرے لگائے۔ پریس کانفرنس میں اعتزاز احسن نے ایک سوال پر کہا کہ یہ حکومت پر محضر ہے کہ وہ وکلا کی طرف سے ڈیڈ لائن پر عمل درآمد کرتی ہے یا نہیں کیونکہ حکومت نے اپنی دی ہوئی ڈیڈلائن کو تسلیم نہیں کیا بہرحال وکلاء توقع کرتے ہیں کہ حکومت اپنے وعدے کے مطابق جلد از جلد عمل کریں۔ دیگر سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمان کو کوئی نقصان پہنچاتا ہے تو اس کی ذمہ داری وکلاء پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے لیڈروں پرہوگی تاہم وکلاء پارلیمان کے حق میں تحریک چلانے کے لیے تیار ہونگے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک سروے کے مطابق ملک کی تراسی فی صد عوام ججوں کی بحالی چاہتے ہیں اور اگر پارلیمان ایسا نہیں کرتی تو وہ اپنا وقار کھو رہی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ مسلم لیگ ن وکلا کے ساتھ ہے یا پیپلز پارٹی کے ساتھ تواعتزاز احسن نے کہا کہ یہ سوال مسلم لیگ ن سے کیا جائے۔ ایک سوال پر اعتزاز احسن نے واضح کیا کہ پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین سید رحمان نے وکلا کانفرنس کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ ان کو اپنی اہلیہ کی طبیت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے جانا پڑا۔ | اسی بارے میں وکلاء کا نمائندہ کنونشن لاہور میں18 July, 2008 | پاکستان بارکونسل نےآئینی ترامیم مستردکردیں23 June, 2008 | پاکستان ’اس سے زیادہ ہم کیا کر سکتے ہیں‘14 June, 2008 | پاکستان ’لانگ مارچ‘: نمبروں کا کھیل13 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ08 June, 2008 | پاکستان ’ایمرجنسی عدلیہ کا گلا گھونٹنے کے لیے‘18 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||