BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 July, 2008, 18:19 GMT 23:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کی بحالی،مہلت14اگست

 وکلاء رہنما(فائل فوٹو)
کانفرنس میں ایک قرار داد کے ذریعے ججوں کی بحالی کےلیے آئینی پیکیج کو مسترد کردیا گیا
پاکستان میں وکلاء کے منتخب نمائندوں کی کانفرنس میں اعلیْ عدلیہ کے ججوں کی بحالی کے لیے حکومت کو چودہ اگست کی ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور کمال نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ہونے والی آل پاکستان وکلاء نمائندہ کانفرنس کے اختتام پر پریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر اعتزاز احسن، حامد خان ، علی احمد کرد اور طارق محمود بھی موجود تھے۔

چودہ اگست کے بعد
 ججوں کے بحالی کے لیے ملک گیر سطح پر دھرنا دینے، عدالتوں کے بائیکاٹ، ان کی تالا بندی، سول نافرمانی کی تحریک اور گرفتاریاں دینے کی تجویز پر غور کرنے کے بعد احتجاج کے لیے ان میں کسی ایک طریقے کو منتخب کیا جائے گا
وکلاء رہنما
وکلاء کے منتخب نمائندوں کی ملک گیر کانفرنس میں صوبائی بار کونسلوں، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنوں کے علاوہ ضلعی بار کے عہدیداروں نے شرکت کی اور بند کمرے میں ہونے والی اس کانفرنس میں ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء تحریک کے لیے آئندہ کی حکمت عملی کے بارے میں غور کیا گیا۔

انور کمال نے کہا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ چودہ اگست تک ججوں کی بحال نہ ہونے کی صورت میں اگلے ہی روز پندرہ اگست کو وکلاء نمائندہ پر مشتمل قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس راولپنڈی بار میں ہوگا جس میں آئندہ کی حکمت عملی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

سندھ میں احتجاج کرنے والے وکیل

ان کا کہنا ہے کہ ججوں کے بحالی کے لیے ملک گیر سطح پر دھرنا دینے، عدالتوں کے بائیکاٹ، ان کی تالا بندی، سول نافرمانی کی تحریک اور گرفتاریاں دینے کی تجویز پر غور کرنے کے بعد احتجاج کے لیے ان میں کسی ایک طریقے کو منتخب کیا جائے گا۔

سیاسی جماعتوں کو پیغام
 اگر چودہ اگست تک ججوں کے بحال نہ ہونے پر سیاسی جماعتیں حکمران اتحاد میں شامل رہتی ہیں تو وکلاء براردی یہ سمجھے گی کہ تین نومبر کو ملک میں ہنگامی حالات کے نافذ کی توثیق کی جارہی ہے
وکلاء رہنما
انہوں نے کہا کہ اگر چودہ اگست تک ججوں کے بحال نہ ہونے پر سیاسی جماعتیں حکمران اتحاد میں شامل رہتی ہیں تو وکلاء براردی یہ سمجھے گی کہ تین نومبر کو ملک میں ہنگامی حالات کے نافذ کی توثیق کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا ہے عدلیہ کی بحالی اور آزادی کویقینی نہ بنانا اٹھارہ فروری کے عوام مینڈیٹ سے روگردانی تصور ہوگی۔

انور کمال نے کہا کہ اجلاس میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو خراج تحیسن پیش کیا گیا ان سے کہا گیا کہ وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور ان سازشوں سے چوکنا رہیں جو ان کو تقسیم کرنے اور ان کی اجتماعی بحالی کے لیے جاری تحریک کو نقصان پہنچائیں۔

کانفرنس میں ایک قرار داد کے ذریعے ججوں کی بحالی کےلیے آئینی پیکیج کو مسترد کردیا گیا۔ کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے’گو مشرف گو‘، ’مشرف جو یار ہے، غدردار ہے‘، ’آئے گا دوبارہ، چیف جسٹس‘ اور ’چیف تیرے جان، نثار بے شمار‘ کے نعرے لگائے۔

پریس کانفرنس میں اعتزاز احسن نے ایک سوال پر کہا کہ یہ حکومت پر محضر ہے کہ وہ وکلا کی طرف سے ڈیڈ لائن پر عمل درآمد کرتی ہے یا نہیں کیونکہ حکومت نے اپنی دی ہوئی ڈیڈلائن کو تسلیم نہیں کیا بہرحال وکلاء توقع کرتے ہیں کہ حکومت اپنے وعدے کے مطابق جلد از جلد عمل کریں۔

دیگر سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمان کو کوئی نقصان پہنچاتا ہے تو اس کی ذمہ داری وکلاء پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے لیڈروں پرہوگی تاہم وکلاء پارلیمان کے حق میں تحریک چلانے کے لیے تیار ہونگے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک سروے کے مطابق ملک کی تراسی فی صد عوام ججوں کی بحالی چاہتے ہیں اور اگر پارلیمان ایسا نہیں کرتی تو وہ اپنا وقار کھو رہی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ مسلم لیگ ن وکلا کے ساتھ ہے یا پیپلز پارٹی کے ساتھ تواعتزاز احسن نے کہا کہ یہ سوال مسلم لیگ ن سے کیا جائے۔

ایک سوال پر اعتزاز احسن نے واضح کیا کہ پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین سید رحمان نے وکلا کانفرنس کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ ان کو اپنی اہلیہ کی طبیت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے جانا پڑا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد