BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 July, 2008, 23:05 GMT 04:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء کا نمائندہ کنونشن لاہور میں

وکلا لانگ مارچ کے بعد ملک گیر سطح پر ہونے والے وکلا نمائندہ کا یہ پہلا کنونشن ہے
پاکستان کے نمائندوں وکلاء کا کنونشن آج لاہور میں ہورہا ہے جس میں اعلیْ عدلیہ کے معزول ججوں کی بحالی کے لیے جاری تحریک کے بارے میں کا آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائےگا۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ہونے والے اس ملک گیر وکلاء کنونشن میں بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کے منتخب عہدیدار شرکت کررہے ہیں۔

وکلا لانگ مارچ کے بعد ملک گیر سطح پر ہونے والے وکلا نمائندہ کا یہ پہلا کنونشن ہے۔

اجلاس میں تحریک کے بارے میں آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ ان تجاویز میں ہر جمعرات کو ملک بھر کی بارایسوسی ایشنز اپنے اپنے شہر کے اہم مقامات پر دو گھنٹے کے لیے دھرنا دینے اور عدالتوں کی تالا بندی کرنے کی تجاویز نمایاں ہیں

ہر جمعرات کو دو گھنٹوں کے لیے دھرنا دینے کی تجویز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے پیش کی ہے جبکہ عدالتوں کی تالابندی کی رائے ملک کی مختلف بار ایسوسی ایشنوں کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر سامنے آئی ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے بقول ہر ہفتہ دو گھنٹوں کے دھرنا دینے کے تجویز اور موثر اور قابل عمل ہے۔ اعتزاز احسن نے چند زور قبل لاہور ہائی کورٹ بار سے اپنے خطاب کے دوران تالابندی کرنے کی تجویز کی مخالف کی تھی۔ ان کاکہنا تھا کہ کہ وکلاء قیادت کو عدالتوں کی تالا بندی کرانے سے پہلے ہی گرفتار کرلیا جائے۔

دوسری جانب سے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری رانا اسد اللہ خان جہنوں نے بار ایسوسی ایشنز اس مشترکہ اجلاس کا اہتمام کیا تھا جس میں تالاہ بندی کی تجویز دی گئی تھی، کا کہنا ہے کہ وکلا تحریک کے لیے عدالتوں کی تالابندی کے بہترین حکمت عملی ہے جبکہ ہفتہ وار دھرنا دینا سود مند نہیں ہے۔

نمائندہ وکلا کنونشن میں پنجاب کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کی طرف سے یہ تجویز پیش کی جائے گی کہ ججوں کی بحالی کے لیے حکومت کو ڈیڈ لاین دی جائے۔

مصبرین کے مطابق وکلا تحریک آئندہ کیا موڑ لیتی ہے اس بات کاتعین آج کے کنونشن میں کیے جانےوالےفیصلہ سے ہوگا۔ خیال رہے کہ سترہ مئی کو لاہور ہائی کورٹ بار میں ہونے والے وکلا کنونشن میں لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد