بارکونسل نےآئینی ترامیم مستردکردیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وکلاء کی نمائندہ تنظیم پاکستان بار کونسل نے پیپلز پارٹی کے مجوزہ آئینی پیکج کی بعض ترامیم کو مسترد کر دیا ہے۔ بار کونسل نےمعزول ججوں کی بحالی میں ’تاخیری حربوں اور صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے اقدامات کی ’توثیق‘ پر بھی شبہ ظاہر کیا ہے۔ پاکستان بار کونسل نے یہ ردِعمل اپنی مرکزی مجلسِ عاملہ کے ایک اجلاس میں آئینی پیکج کے تفصیلی جائزے کے بعد جاری کیا ہے۔ رشید اے رضوی کی صدارت میں یہ اجلاس اتوار کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تاہم اس کے فیصلوں کا اعلان پیر کو کیا گیا۔
قرار داد میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل چھ میں مجوزہ ترمیم کا مقصد عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف لینے والے ججوں کو تحفظ فراہم کرنا اور یہ تاثر دینا ہے کہ موجودہ آرٹیکل چھ میں بغاوت کے مرتکب ججوں، اراکین پارلیمان اور دیگر افراد کو سزا دینے کا کوئی ذکر نہیں۔
تاہم بار کا مؤقف تھا کہ اس آرٹیکل میں ’مدد اور اعانت‘ کے الفاظ واضع طور پر ایسے تمام افراد کو سزا تجویز کرتے ہیں جنہوں نے صدر پرویز مشرف کی ہنگامی حالت کے نفاذ میں مدد کی۔ بار نے پیکج میں اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کی تعیناتی کا اختیار وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو دینے اور صدر اور گورنروں کو اس فیصلے سے دور کرنے کی مخالفت کی۔ کونسل کوخدشہ تھا کہ اس سے یہ عہدے سیاسی رنگ اختیار کر لیں گے لہذا موجودہ وقت میں آئین کے آرٹیکل سو اور ایک سو چالیس میں ترمیم کا کوئی جواز نہیں ہے۔ بار کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل ایک سو ستتر میں ترمیم اور آرٹیکل ایک سو ستتر اے متارف کروانے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اس کا مؤقف تھا کہ اعلیٰ عدالتوں میں تمام تقرریاں نیشنل جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کی جانی چاہییں جس میں بار کی بھی نمائندگی تجویز کی گئی ہے۔ بار کے خیال میں وفاقی وزیرِ قانون کی سربراہی میں قائم کمیشن چیف جسٹس کی تعیناتی کرے یہ عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی کے اصول کے خلاف ہے۔
کونسل نے آئین میں ہائی کورٹ کے ججوں کی تعیناتی سے متعلق آرٹیکل ایک سو ترانوے کی بھی مخالف کی۔ قرار داد میں صدر کو کسی بھی جج کو زبردستی چھٹی پر غیرمعینہ مدت کے لیے بھیجنے کے اختیار کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل دو سو نو کے غلط استعمال کا احتمال ہے۔ بار کونسل نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے اختیار میں کمی کی تجویز پر بھی دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ کئی تاریخی فیصلے عدالتوں نے آئین کے اسی آرٹیکل ایک سو چوراسی کے تحت دیے تھے۔ کونسل نے اپنی قرار داد میں آئین کے مجوزہ آرٹیکل دو سو ستر سی سی کی شمولیت کو صدر پرویز مشرف کے ’تین نومبر سے پندرہ دسمبر دو ہزار سات کے تمام غیرآئینی اقدامات کو تحفظ فراہم‘ کرنے کے مترادف قرار دیا۔ اس سے بقول بار کے چیف جسٹس اور دیگر ججوں کی معزولی کو بھی درست قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان بار کونسل نے اراکین پارلیمان اور حکمراں اتحاد عدلیہ سے متعلق آئینی ترامیم کو مسترد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سول سوسائٹی، طلبہ، محنت کشوں اور اساتذہ سے ایسی کوششوں کے خلاف متحد ہونے کے لیے کہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے مجوزہ آئینی پیکج پر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہیں۔ تاہم بات ابھی اس سے آگے نہیں بڑھ پائی ہے۔ ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ اس پیکج پر حکمراں اتحاد میں اتفاق رائے کب تک ہو پائےگا اور یہ کب پارلیمان کے سامنے بحث کے لیے رکھی جائے گی۔ لانگ مارچ تحریک جاری
دریں اثناء سپریم بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری چودہری امین جاوید نے کہا ہے کہ لانگ مارچ پر بحالی عدلیہ کی تحریک ختم نہیں ہوتی ہے یہ بھی جاری ہے اور اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک عدلیہ کی بحالی کے مقاصد پورے نہیں ہو جاتے۔ ’اس کے لیے ہمیں ہزار لانگ مارچ بھی کرنے پڑے تو ہم ضرور کریں گے۔ آئندہ لانگ مارچ میں کسی بھی مصلحت کو راستے کی رکاوٹ بننے نہیں دیں گے اور اسلام آباد سے فاتح لوٹیں گے۔‘ انہوں نے یہ باتیں سپریم کورٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیں۔ چوہدری امین جاوید نے کہا کہ پاکستان بھر کے وکلاء اب بھی متحد ہیں اور قومی مقصد کے لیے متحد رہیں گے۔ لوگوں میں کوئی بے چینی نہیں ہے عوام اگلی لانگ مارچ کے اعلان کے لیے بے چین ہیں ۔ اگلے لانگ مارچ کا اعلان آل پاکستان وکلاء جوائنٹ کمیشن کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری امین جاوید نے کہا کہ فنانس بل کے ذریعے ججوں کی تعداد نہیں بڑھائی جا سکتی ۔ کیونکہ آئین میں ججوں کی تعداد مقرر ہے اور اس کی تعداد بڑھانے یا کم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے اگر فنانس بل کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھائی جا سکتی ہے تو اس میں ججوں کی بحالی کیوں نہیں کی گئی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معزول ججوں کو گزشتہ سات ماہ کی تنخواہ دے کر اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ معزول جج اب بھی جج ہیں۔ تمام ججوں کے چیکوں پر لفظ جسٹس اس بات کی دلیل ہے کہ معزول جج اب بھی جج ہیں اور حکومت اس بات کو تسلیم کرتی ہے۔ |
اسی بارے میں وکلاء کا ملک گیر احتجاج جاری03 January, 2008 | پاکستان ’پی سی او جج کے سامنےپیشی نہیں‘06 November, 2007 | پاکستان وکلاء تحریک چلانے کا عزم24 July, 2007 | پاکستان ’دھماکے کانشانہ چیف جسٹس تھے‘18 July, 2007 | پاکستان ’وکلاء تحریک روکنے کی کوشش‘06 June, 2007 | پاکستان وکلاء کا احتجاجی لانگ مارچ13 October, 2003 | پاکستان معزول چیف جسٹس کو تنخواہ مل گئی17 June, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||