BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 July, 2008, 03:39 GMT 08:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس ڈوگر کی آمد پر احتجاج
پولیس نے گاڑیاں کھڑی کرکے وکلاء کو ہائی کورٹ کی عمارت میں جانے سے روک لیا
کراچی میں سندھ ہائی کورٹ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آمد کے موقع پر احتجاج کرنے والے ایک درجن سے زائد وکلاء اور سول سوسائٹی کی کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر جمعرات کو انصاف تک رسائی پروگرام کے سلسلے میں کمپیوٹروں کے تقسیم کی تقریب میں شرکت کے لئے ہائی کورٹ آئے تھے۔ اس تقریب میں تمام سیشن ججز کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ کے عام دروازہ سے چند میٹر کے فاصلے پر رات نو بجے وکلاء احتجاج کے لیے جمع ہوئے جو ڈوگر راج نامنظور، آرٹیکل سکس مشرف فکس کے نعرے لگا رہے تھے، مظاہرے سے قبل ہی بھاری تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیئے گئے تھے۔

پولیس نے گاڑیاں کھڑی کرکے وکلاء کو ہائی کورٹ کی عمارت میں جانے سے روک لیا اور انہیں بتایا کہ وہ آگے نہیں جاسکتے۔

اس موقع پر کراچی بار کے سیکریٹری نعیم قریشی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری حکومت میں انہیں احتجاج کا حق حاصل ہے، مگر جس طرح جمہوری حکمران رکاوٹیں ڈال رہے ہیں وہ قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈوگر راج کو وکلاء کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے مشرف کے غیر آئینی اقدامات کی حمایت کی ہے۔

نعیم قریشی کا کہنا تھا کہ اس تقریب میں سندھ ہائی کورٹ، کراچی اور ملیر بار کا کوئی وکیل شریک نہیں ہے یہ سرکاری ملازموں کا ایک شو ہے، اگر کوئی وکیل شریک ہوا تو اس کی بار کی رکنیت ہی ختم کی جائے گی۔

اس احتجاج میں سیاسی جماعتوں کے کارکن شریک نہیں تھے، صرف تحریک انصاف کی چند کارکن موجود رہے۔ وکلا رہنما نعیم قریشی کا کہنا تھا کہ جیسے ہی انہیں جسٹس ڈوگر کی آمد کا علم ہوا انہوں نے احتجاج کا اعلان کیا۔ وکلاء کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے ان کا ایجنڈا صرف عدلیہ کی بحالی ہے۔

بعد میں ہائی کورٹ میں چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے جیسے ہی تقریر شروع کی تو چند وکلاء اور عوامی مزاحمت تحریک کے کارکن ججز گیٹ پر پہنچ گئے اور انہوں نے نعرے لگانے شروع کردیئے جس وجہ سے اہلکاروں میں افراتفری پھیل گئی۔

پولیس نے گھیراؤ کرکے ایک درجن سے زائد وکلا اور کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا، جن میں کراچی بار کے سیکریٹری جنرل نعیم قریشی، سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے بیٹے صلاح الدین احمد، عوامی مزاحمت تحریک کی رہنما انیس ہارون سمیت چار خواتین بھی شامل ہیں۔

تقریب کو خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ مقدمات میں تاخیر کی وجہ سے لوگوں کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، عدالتوں میں مقدمات کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے کام میں اضافہ ہوا ہے مگر اس حوالے سے ججوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت سے اس سلسلے میں بات چیت کی گئی ہے اور تمام جلد ہر سطح پر ججز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا ۔ عدالتوں کو بنیادی، ڈھانچے اور دیگر مطلوبہ سامان کی فراہمی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہی وجہ ہے کہ حکومت سے کہا گیا ہے کہ انصاف تک رسائی کا پروگرام جاری رکھا جائے تاکہ جاری اسکیمیں مکمل اور نئی اسکیمیں شروع کی جاسکیں۔

واضح رہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر سندھ کے دورے پر ہیں جس دوران انہوں نے لاڑکانہ اور دادو میں وکلا کو خطاب بھی کیا ہے۔

رات کو چیف جسٹس کے حکم پر گرفتار تمام وکلاء اور عوامی مزاحمت تحریک کے کارکنوں کو رہا کردیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد