BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 August, 2008, 18:28 GMT 23:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یوم نجات، ججوں کی بحالی کا مطالبہ

وکلاء
ججوں کی صرف ایگزیکٹو آّرڈر کے ذریعے بحالی کو ہی قبول کریں گے: وجیہہ الدین
پرویز مشرف کے استعفے کی خوشی میں پاکستان بھر میں وکیلوں نے آج یوم نجات منایا جس میں وکلاء رہنماؤں نے ججوں کی ایگزیکٹو آڈر کے ذریعے فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی آئینی پیکج اور پی سی او ججوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔

پاکستان کے مختلف اضلاع میں وکیلوں نے پرویزمشرف کے استعفے کی خوشی میں اجتماعات کیے، مٹھایاں تقسیم کیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ وکیلوں نے اپنے بار رومز پر لگے احتجاجی سیاہ پرچم اتار دئیے ہیں۔

لاہور میں ایوان عدل سے ریلی نکالی گئی اور پی ایم جی چوک میں وکیلوں نے ڈھول کی تھاپ پر رقص کیاگیا۔

لاہور ہائی کورٹ بار میں عدلیہ کی بحالی میں عوام کے کردار کے موضوع پر ایک سمینار ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے حکومت کے تیارکردہ آئینی پیکج کو ایک شرمناک دستاویز قراردیا۔ انہوں نےکہا کہ وکیل ججوں کی صرف ایگزیکٹو آّرڈر کے ذریعے بحالی کو ہی قبول کریں گے۔ انہوں نے پرویز مشرف کی سبکدوشی کو وکلاء جدوجہد کا ثمر قراردیا۔

جسٹس وجیہہ الدین نے کہا کہ پی سی او ججوں کو قبول نہیں کیا جائے گا اور بہتر ہے کہ وہ خود ہی گھر چلے جائیں ورنہ ان کے ساتھ جو سلوک ہوگا اس کے بعد انہیں افسوس ہوگا کہ وہ خود سے گھر کیوں نہیں چلے گئے۔

پاکستان بارکونسل کے ممبر حامد خان نے کہا کہ پرویز مشرف کے لیے یہ کوئی سزا نہیں ہے کہ انہیں بیرون ملک فرار ہونے دیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

انہوں نے پرویز مشرف کو لال مسجد قتل عام، لوگوں کو اغواء کر کے امریکہ کے حوالے کرنے اور آئین توڑنے کے جرائم کا مرتکب قرار دیا اور کہا کہ انہیں ان کےگناہوں کی سزا ملنی چاہیے۔ حامد خان نےکہا کہ وکلاء پرویز مشرف کا قبر تک پیچھا کریں گے۔

اندرون سندھ اور کراچی میں بھی وکلاء نے خوشی کے مظاہرے کیے۔ کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ وکیلوں کے علاوہ سنی تحریک کے کارکنوں نے بھی خوشی کا مظاہرہ کیا۔ سنی تحریک کے رہنما شاہد غوری نے مطالبہ کیا جیسے جج بحال ہوں انہیں نشتر پارک بم دھماکے کی تحقیقات کرنی چاہیے۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ راولپنڈی بار میں وکیلوں نے خوشی کا جلوس نکالا جبکہ اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار میں وکیلوں نے مٹھائی تقسیم کی۔

کوئٹہ میں وکیلوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وکیل رہنما علی احمد کرد نے کہا کہ پرویز مشرف نے اقتدار کی خاطر ناانصافی اور ظلم کا ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا لیکن پاکستان کے عوام کے شدید جذبات کاشکار ہوکر کرسی چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

پشاور ہائی کورٹ بار میں قرآن خوانی ہوئی اور پرویز مشرف سے نجات پر خدا کا شکر ادا کیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد