معزول ججوں کی بحالی پر فیصلہ آج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ حکمران اتحاد منگل کے روز معزول ججوں کی بحالی اور آئینی پیکیج کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ پرویز مشرف کے عہدۂ صدارت سے استعفے کے بعد حکمراں اتحاد کا اجلاس اسلام آباد میں ہو گا۔ وزیرِ قانون فاروق ایچ نائیک نے قومی اسمبلی کے باہر موجود صحافیوں کو بتایا ہے کہ حکمراں اتحاد کے اجلاس میں ججوں کی بحالی کے معاملے پر حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا صدر مشرف کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا فیصلہ بھی حکمران اتحاد ہی کرےگا۔انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کی طرف استعفیٰ کے بعد مواخذہ ممکن نہیں ہے۔ وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ صدر مشرف کا استعفیٰ کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں ہے۔ جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے انتہائی شدید سیاسی دباؤ کے نتیجے میں پیر کی دوپہر استعفی دے دیا تھا اور ان کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمید مرزا کو بھجوایا گیا استعفیٰ سوموار کی شام کو ہی قبول کر لیا گیا اور یوں مشرف کا نو سالہ دورِ اقتدار اپنے اختتام کو پہنچ گیا تھا۔ صدر کے استعفی کے بعد چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں اور اب آئین کے مطابق تیس دن کے اندر نئے صدر کا انتخاب ہونا ہے۔ استعفے کے بعد کی صورتحال پر غور کے لیے حکمران اتحاد کے سربراہان اور مرکزی رہنماؤں کا اہم اجلاس پیر کو زرداری ہاؤس میں چھ گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد کسی اہم فیصلے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوگیا تھا۔ اس اجلاس کا دوسرا سیشن منگل کو منعقد ہو رہا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں صدر کے مواخذے اور ججوں کی بحالی کے حوالے سے حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔
پیر کو ہونے والے اجلاس میں شریک جمیعت علماء اسلام کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے بی بی سی کو بتایا کہ کل کے اجلاس میں نئے صدر کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی تاہم آج یہ موضوع بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق اجلاس میں معزول ججوں کی بحالی، مشرف کے احتساب اور آئندہ کی حکمت عملی پر عمومی بات ہوئی تاہم کوئی فیصلے نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر کے کڑے احتساب پر تقریباً تمام اتحادیوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے تاہم جب ان سے دریافت کیا گیا کہ آیا فوج ایسا ہونے کی اجازت دے گی تو ان کا کہنا تھا کہ حکمراں اتحاد اس ایشو پر ایک موقف تو اختیار کر سکتا ہے۔ ’اگر ہمت دکھائی جائے تو تاریخ رقم کی جاسکتی ہے‘۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جگہ نئے صدر کے انتخاب کے لیے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں متعدد نام سامنے آ رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) یہ عہدہ بلوچستان میں سردار عطا اللہ مینگل جیسے شخصیت کو دینی کی تجویز پیش کرچکی ہے۔ تاہم اتحاد کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے سب جماعتوں کا اتفاق ہے کہ صدر نامزد کرنے کا اختیار پیپلز پارٹی کو حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے تاحال کسی حتمی امیدوار کے نام کا اعلان تو نہیں کیا گیا ہے تاہم اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ میں سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، آفتاب شعبان میرانی اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی بہن اور ممبر قومی اسمبلی فریال تالپور جیسے ناموں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ادھر پرویز مشرف کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد شام کو ایوان صدر میں الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں صدر کوگارڈ آف آنر پیش کیا گیا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔ اس تقریب کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف ایوانِ صدر سے رخصت ہو گئے تھے۔ |
اسی بارے میں مشرف مستعفی، نو سالہ دور کا خاتمہ18 August, 2008 | پاکستان سندھ میں بھی ’گو مشرف گو‘13 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کی مفاہمت کی اپیل14 August, 2008 | پاکستان صدر کا خطاب شروع، کارکردگی کا دفاع18 August, 2008 | پاکستان ’صدر کے خطاب کی تیاریاں مکمل‘ 18 August, 2008 | پاکستان سیاہی پر روشن خیالی کا پوڈر17 August, 2008 | پاکستان صدر کی رٹ ختم ہو چکی ہے: ربانی17 August, 2008 | پاکستان ’مشرف کوپناہ دینے کی تجویز نہیں‘17 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||