BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 August, 2008, 00:55 GMT 05:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کوئی مخصوص فارمولا پیش نہیں کیا‘
مشرف
صدر بش جلد ہی پرویز مشرف کے استعفٰی کے بعد کی صورتحال پر اعلٰی پاکستانی حکام سے بات چیت کریں گے: امریکی حکام

برطانوی حکام نے پہلی مرتبہ سابق صدر پرویز مشرف کے استعفےٰ میں کردار ادا کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کی خواہش تھی کہ تصادم کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

برطانوی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے ملک کی اعلیٰ قیادت کو کوئی مخصوص فارمولا پیش نہیں کیا گیا تھا البتہ برطانیہ کی یہ شدید خواہش تھی کہ پاکستان کی منتخب حکومت اور سابق فوجی صدر کے درمیان تصادم کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

یاد رہے کہ پاکستان کے صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے حکومتی اتحاد کی جانب سے اپنے مواخذے کے اعلان کے بعد اٹھارہ اگست کو اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ملک میں ان قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا کہ صدر کا استعفٰی کسی ڈیل کا نتیجہ ہے۔ اس حوالے سے حکمران اتحاد میں شامل جماعت مسلم لیگ(ن) اور وکلاء نمائندوں نے استعفٰی کے باوجود جنرل(ر) پرویز شمرف کے محاسبے پر زور دیا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ سر مارک لائل گرانٹ کا نام پاکستانی سیاست کے حوالے سے سامنے آیا ہو

صدر کے استعفٰی میں برطانوی کردار پر بی بی سی نیوز کے نامہ نگار اوون بینٹ جونز سےگفتگو کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے صدر اور معروف قانون داں اعتزاز احسن نے سابق صدر مشرف اور حکومت کے درمیان مبینہ ڈیل میں برطانوی دفتر خارجہ کے سینئر اہلکار اور پاکستان میں برطانیہ کے سابق ہائی کمشنر سر مارک لائل گرانٹ کے کردار پر کڑی نکتہ چینی بھی کی ہے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ’برطانوی سفارتکار مارک گرانٹ نے یہ ڈیل کروا کے پاکستان کے قانون کی دھجیاں بکھیر دی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ برطانیہ ہوتا تو وہ کسی فرد واحد کو کبھی قانون سے بالاتر قرار نہ دیتے مگر پاکستان آ کر انہوں نے ایک آئین شکن شخص کو قانون سے استسنٰی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اعتزاز احسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ پرویز مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لے جانا ایک خطرناک رحجان ہے۔

اوون بینٹ جونز کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ سر مارک لائل گرانٹ کا نام پاکستانی سیاست کے حوالے سے لیا گیا ہو اور اس سے قبل ان کا نام بےنظیر بھٹو اور سابق صدر پرویز مشرف کے درمیان بدعنوانی کے الزامات ختم کروانے اور ملکی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرنے کی اجازت کی غرض سے ہونے والی سودے بازی میں سامنے آیا تھا۔

 برطانوی سفارتکار مارک گرانٹ نے یہ ڈیل کروا کے پاکستان کے قانون کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔اگر یہ برطانیہ ہوتا تو وہ کسی فرد واحد کو کبھی قانون سے بالاتر قرار نہ دیتے مگر پاکستان آ کر انہوں نے ایک آئین شکن شخص کو قانون سے استثنٰی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اعتزاز احسن

یاد رہے کہ چند روز قبل مسلم لیگ (ق) کے ایک سرکردہ رہنما سینیٹر طارق عظیم نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی حکومت اور صدر کے درمیان معاملہ افہام و تفہیم سے طے کرنے کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں اور ’وہ لوگ جو صدر پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہونے والی قومی مصالحت کے عمل میں شامل رہے، کوششیں کر رہے ہیں اور مارک لائل گرانٹ تو اس عمل میں پہلے روز سے شامل رہے ہیں‘۔

ادھر بش انتظامیہ کا بھی کہنا ہے کہ صدر بش جلد ہی جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے استعفٰی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت کے لیے اعلٰی پاکستانی حکام سے رابطہ کریں گے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے برجیش اپادھیائے کے مطابق نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان گورڈن جانرو کا کہنا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ صدر بش پاکستان کے اعلٰی اہلکاروں اور خود سابق صدر مشرف سے ٹیلیفون پر بات کریں۔

امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان رابرٹ وڈ نے بھی کہا ہے کہ تاحال پرویز مشرف کی جانب سے امریکی حکام سے پناہ یا وہاں قیام کرنے کے حوالے سے کوئی درخواست نہیں کی گئی ہے تاہم اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکہ اس پر ضرور غور کرے گا۔رابرٹ وڈ نے کہا کہ ’اگر وہ کہیں رہنا پسند کرتے ہیں مطلب یہ کہ ہم سے درخواست کرتے ہیں تو یقیناً ہم اس کا جائزہ لیں گے لیکن ابھی تک ایسے کسی معاملے میں ہم سے رابطہ نہیں کیا گیا ہے‘۔

برجیش اپادھیائے کے مطابق امریکی دفترِ خارجہ کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ جنرل(ر) پرویز مشرف سے باعزت سلوک ہو لیکن امریکہ پاکستان کے داخلی معاملات میں براہِ راست ملوث نہیں ہونا چاہتا۔

جمہوری عمل کی فتح
’اس معرکے کا اصل ہیرو جمہوری عمل ہے‘
آمروں کا عالمی کلب
مشرف کی آمریت اور ان کے عالمی پیش رو
جسٹس خواجہ شریف’آمر کو سزا دیں‘
’فوج کا غیر جانبدارانہ کردار خوش آئند‘
صدر پرویز مشرفمیرے عزیز ہم وطنو
صدر پرویز مشرف کے قوم سے خطاب کا متن
جنرل مشرف آگرہ میںمشرف ٹائم لائن
صدر (ر) جنرل پرویز مشرف کا دور اقتدار
پرویز مشرفصدر کاخطاب
آخری خطاب میں مشرف نے کیا نہیں کہا
روزنامہ ایکسپریس کا تراشہ(فائل فوٹو)’ایگزٹ مشرف‘
صدر کا استعفٰی: پاکستانی اخبار کیا کہتے ہیں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد