ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
| | پاکستان بھر کے اخبارات میں آج کی واحد خبر مشرف کے استعفی ہی ہے |
پاکستانی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایک ہی خبر کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے ایسا کم ہی دیکھا جاتا ہے۔ لیکن جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے استعفی کی خبر نہ صرف پاکستانی بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی چھائی رہی۔ پاکستانی اخبارات نے تو اس خبر کو بینر ہیڈلائنز، متعلقہ تصاویر اور کارٹونوں کے ساتھ سجایا ہے۔ اردو اخبار ایکسپریس کی سرخی ہے ’عوام کی جیت، مشرف نے ہتھیار ڈال دیے‘۔ تاہم انگریزی اخبار دی نیوز نے شہ سرخی کے لیے عبارت چننے میں کافی سخت جملے کا انتخاب کیا اور وہ یہ کہ ’مش کوئٹس ود ٹیل بٹوین ہز لیگز‘ یعنی مشرف دم دبا کر بھاگ گئے۔ لاہور سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز نے صدر کی رخصتی کو ’گوئنگ، گوئنگ، گان‘ جیسی عبارت سے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی اخبار نے اپنی ادارتی صفحے پر ایک کارٹون میں ہاؤس فل سینما گھر میں سکرین پر مشرف کی فلم کا ’دی اینڈ‘ ہوتے دکھایا ہے۔ آج کے اخبارات میں آج کی واحد خبر مشرف کے استعفی ہی ہے تو ایسا کہنا غلط نہیں ہوگا۔ خبر کے علاوہ اس تاریخی فیصلے پر رائے زنی اور اس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ انگریزی اخبار ڈان نے اپنے اداریے ’ایگزٹ مشرف‘ میں لکھا ہے کہ سابق صدر مشرف نے معیشت کی بہتری کے لیے جو بھی اچھے برے اقدامات کیے ہوں لیکن وہ ریاستی اداروں جیسے کہ پارلیمان، عدلیہ اور نوکرشاہی کو مضبوط کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے جو بالآخر ان کے جانے کی بڑی وجہ بھی بنے۔ ڈیلی ایکسپریس نے اداریے میں حکمراں اتحاد کو خبردار کیا ہے کہ پرویز مشرف کے جانے سے اس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے جس پر اب اسے بھرپور پوری توجہ دینی ہوگی۔ دی نیوز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ صدر کے جانے سے اب حکمراں اتحاد کے پاس ناکامی کی کوئی وجہ نہیں رہی۔ اخبار نے اس سارے تنازعے میں فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے کردار کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔  | | | تمام اخبارات نے استعفٰی کی خبر نمایاں انداز میں شائع کی ہے |
صدر کی سب سے بڑی حامی جماعت مسلم لیگ قاف کے رہنماؤں کے بیانات بھی شائع ہوئے ہیں جن میں انہوں نے اس فیصلے کو ملک، قوم اور عوام کے مفاد میں قرار دیا ہے۔ ایک اخبار کی خبر کے مطابق سابق وفاقی وزیر اور سینٹر نثار میمن کی بیٹی اور رکن قومی اسمبلی ماروی میمن کو استعفے کی خبر سن کر زاروقطار رونے لگیں۔ یاد رہے کہ ماروی میمن چند روز قبل ہی صدر سے ملی تھیں اور ان کے استعفے کی خبروں کو انہوں نے غلط قرار دیا تھا۔ ایک اور خبر کے مطابق پنجاب کے شہر صادق آباد میں ایک سابق فوجی نے صدر کے استعفے پر غصے میں اپنا ٹی وی بھی توڑ دیا۔ ڈان نے ایک کارٹون میں صدر کی جانب سے اپنی کرسی خالی کرنے پر مختلف لوگوں کے اس کی جانب لپکتے ہوئے دکھایا ہے۔ نیا صدر کون ہوگا اس بارے میں بھی اخبارات نے قیاس آرائیوں کا آغاز کر دیا ہے اور اس بابت مختلف نام سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور، فہمیدہ مرزا، آفتاب شعبان میرانی، استفندیار ولی، جسٹس ریٹائرڈ سعیدالزمان صدیقی اور بلوچ قوم پرست رہنما عطا اللہ مینگل پیش پیش ہیں۔ نیا صدر کون ہوگا؟ یہی سوال آئندہ چند روز تک اخبارات کے کالم بھرنے میں کافی معاون ثابت ہوگا۔ |