BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 August, 2008, 00:09 GMT 05:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کسی ایک آمر کو تو سزا ملے‘

جسٹس خواجہ شریف
خوشی کی بات ہے کہ ملک سے آمریت کا خاتمہ ہوگیا ہے:جسٹس خواجہ شریف
لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین معزول جج جسٹس خواجہ محمد شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کم از کم کسی ایک آمر کو تو سزا ملنی چاہیے تاکہ سبق ملے اور آئندہ کوئی جمہوری حکومت کو ختم کر کے اس کا تختہ نہ الٹے۔

جسٹس خواجہ شریف نے یہ بات پیر کی رات لاہور ہائی کورٹ کے معزول جج جسٹس جہانگیر ارشد کی ریٹائرمنٹ کے سلسلہ میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب میں کہی۔

ہائی کورٹ بار میں ہونے والے اس تقریب میں لاہور ہائی کورٹ کے ان دس ججوں نے شرکت کی جہنوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ بار کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی تقریب ہے جو کسی جج کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر اس کے اعزاز میں ریفرنس پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی۔ تقریب میں جسٹس وجیہہ الدین کے علاوہ اعلیْ عدلیہ کے سابق ججوں اور کلا نے بھی شرکت کی۔

جسٹس خواجہ شریف کا کہنا تھا کہ ’خدا کرے کہ جمہوری حکومت معاہدے پر عمل کرتے ہوئے اس وعدہ کو پورا کرے جو انہوں نے اعلان اسلام آباد میں کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ آج خوشی کی بات ہے کہ ملک سے آمریت کا خاتمہ ہوگیا ہے جو ان کے بقول’شیطان کی طرح ملک پر مسلط تھی‘۔ خوجہ شریف کا کہنا تھا کہ اسمبلی تحلیل کرنے کا آئینی اختیار اٹھاون ٹو بی کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب صدر اور فوج اکٹھے ہوں اور یہ بات خوش آئند ہے کہ فوج نے غیر جانبدارنہ کردار ادا کیا ہے۔

ریٹائر ہونے والے معزول جج جسٹس جہانگیر ارشد کا کہنا تھا کہ آئینی پیکج درحقیقت عدلیہ کی توہین کا پیکج ہے اور اس کے ذریعے عدلیہ کو انتظامیہ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری اس پیکج کو مسترد کر کے انتظامیہ کی سازش کو ناکام بنا دے۔

News image
آئینی پیکج درحقیقت عدلیہ کی توہین کا پیکج ہے اور اس کے ذریعے عدلیہ کو انتظامیہ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے گا۔
جسٹس جہانگیر ارشد

ان کا کہنا تھا کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے وہ قومی مجرم ہیں بلکہ قابل مواخذہ ہیں۔ ان کے بقول ان لوگوں کا موخذاہ نہ کیا گیا اور ان کو نشان عبرت نہ بنایا گیا تو آئندہ کوئی ایسی کارروائیوں کو نہیں روک سکےگا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے پارلیمان کو مشورہ دیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہ دیا جائے بلکہ ان کا شفاف ٹرائل کیا جائے۔ ان کےبقول پارلیمان جنرل مشرف کو محفوظ راستہ دیکر ایک بہت بڑا رسک لے رہی ہے حالانکہ پارلیمان کو احتیاط سے کام لینا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ’آج دل رنجیدہ ہوا کہ صدر پرویز مشرف کی رخصت’گارڈ آف آنر‘ کے ذریعے ہوئی ہے اور ان کو محفوظ راستہ دینے کی باتیں سن کر دکھ ہوتا ہے‘۔

اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کو محفوظ راستہ دینے سے ہر کوئی یہ سمجھے گا کہ عزت سے آؤں گا اور عزت سے چلا جاؤں گا کیونکہ ان کے بقول’صرف سویلین کو پھانسی اور ہتھکڑی لگتی ہے‘۔اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ معزول چیف جسٹس اور کچھ جج سیاسی ہوگئے ہیں۔ ان کے بقول’یہ بات درست نہیں ہے اور کسی معزول جج نے سیاست میں حصہ نہیں لیا‘۔

صدر مشرف مستعفی، لوگ کیا کہتے ہیں؟عوامی رد عمل
صدر مشرف کے استعفی پر لوگ کیا کہتے ہیں؟
صدر پرویز مشرفمیرے عزیز ہم وطنو
صدر پرویز مشرف کے قوم سے خطاب کا متن
وردی میں آخری دنمشرف ٹائم لائن
صدر (ر) جنرل پرویز مشرف کا دور اقتدار
مشرفخوشی بھی غم بھی
استعفے پر خوشی ہے اور غمی کا عالم بھی
پرویز مشرفصدر کاخطاب
آخری خطاب میں مشرف نے کیا نہیں کہا
اسی بارے میں
مشرف کا احتساب ہو: اعتزاز
16 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد