اجلاس ختم، نہ کوئی فیصلہ نہ اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں حکمراں اتحاد کا دو روز سے جاری سربراہی اجلاس ججوں کی بحالی کے حوالے سے بغیر کسی فیصلے یا اعلان کے ختم ہوگیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون کے اعلان کے باوجود کہ معزول ججوں کی بحالی کے بارے میں آج فیصلہ ہو جائے گا ایسا نہیں ہو سکا۔ مسلم لیگ (ن) نے مذاکرات میں کسی تعطل سے انکار کیا ہے جبکہ اے این پی اور جمیعت علمائے اسلام نے مشترکہ فیصلوں کے لیئے مزید بہتر گھنٹوں کا وقت مانگا ہے۔ چاروں اتحادی جماعتوں کے رہنماوں کے علاوہ آج کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں معزول ججوں کی بحالی، سابق صدر کے محاسبے اور نئے صدر کے انتخاب کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں شامل دو چھوٹی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور قبائلی علاقے کے اراکین نے معزول ججوں کی بحالی اور دیگر معاملات پر پارٹی کے اندر اور ایک دوسرے سے مشاورت کے لیے تین دن کی مہلت مانگی ہے۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ مشاورت وہ جماعت کے اندر اور دو بڑی جماعتوں کے رہنماؤں سے کریں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے اس سوال پر کہ مذاکرات میں ترجیح کس ایک ایشو کو زیادہ دی جا رہی ہے، کہا کہ جب وہ محاسبے کی بات کرتے ہیں تو میڈیا چلّاتا ہے کہ پہلے عدلیہ اور اگر وہ عدلیہ کی بات کرتے ہیں تو اس کے مخالف بات کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب ایشوز پر بات ہو رہی ہے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے زرداری ہاؤس میں آمد پر مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ صدر کے چلے جانے کے بعد معزول ججوں کو بحال کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ اب وعدے پر عمل درآمد ہوگا۔یہ آج یا کل تک ہو جانا چاہیے‘۔ سابق وزیر اعظم نے ایسی کسی تجویز سے لاعلمی کا اظہار کیا جس میں موجودہ اور معزول چیف جسٹس دونوں کو مستعفی ہونا ہوگا۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ صدر کے چلے جانے سے اتحاد کے اندر کے اختلافات بڑھیں گے۔ ’اگر یہ اتحاد ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے ہے تو پھر اسے مزید مضبوط ہونا چاہیے‘۔ اس سے قبل دوسری جانب پیپلز پارٹی کی وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا تھا کہ منگل کو ہونے والے اجلاس میں کئی اہم سیاسی معاملات پر غور ہوگا جبکہ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا تھا کہ حکمران اتحاد منگل کے روز معزول ججوں کی بحالی اور آئینی پیکیج کے بارے میں فیصلہ کر لے گا۔ وزیرِ قانون فاروق ایچ نائیک نے قومی اسمبلی کے باہر موجود صحافیوں کو بتایا کہ حکمراں اتحاد کے اجلاس میں ججوں کی بحالی کے معاملے پر حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ صدر مشرف کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا فیصلہ بھی حکمران اتحاد ہی کرےگا تاہم صدر مشرف کی طرف استعفیٰ کے بعد مواخذہ ممکن نہیں ہے۔ وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ صدر مشرف کا استعفیٰ کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں ہے۔ استعفے کے بعد کی صورتحال پر غور کے لیے حکمران اتحاد کے سربراہان اور مرکزی رہنماؤں کا اہم اجلاس پیر کو زرداری ہاؤس میں چھ گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد کسی اہم فیصلے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوگیا تھا۔
جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جگہ نئے صدر کے انتخاب کے لیے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں متعدد نام سامنے آ رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) یہ عہدہ بلوچستان میں سردار عطا اللہ مینگل جیسے شخصیت کو دینی کی تجویز پیش کرچکی ہے۔ تاہم اتحاد کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے سب جماعتوں کا اتفاق ہے کہ صدر نامزد کرنے کا اختیار پیپلز پارٹی کو حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے تاحال کسی حتمی امیدوار کے نام کا اعلان تو نہیں کیا گیا ہے تاہم اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ میں سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، آفتاب شعبان میرانی اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی بہن اور ممبر قومی اسمبلی فریال تالپور جیسے ناموں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ |
اسی بارے میں مشرف مستعفی، نو سالہ دور ختم18 August, 2008 | پاکستان سندھ میں بھی ’گو مشرف گو‘13 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کی مفاہمت کی اپیل14 August, 2008 | پاکستان صدر کا خطاب شروع، کارکردگی کا دفاع18 August, 2008 | پاکستان ’صدر کے خطاب کی تیاریاں مکمل‘ 18 August, 2008 | پاکستان سیاہی پر روشن خیالی کا پوڈر17 August, 2008 | پاکستان صدر کی رٹ ختم ہو چکی ہے: ربانی17 August, 2008 | پاکستان ’مشرف کوپناہ دینے کی تجویز نہیں‘17 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||