اجلاس: ججوں کا معاملہ سر فہرست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد زرداری ہاؤس اسلام آباد میں حکمراں اتحاد کے رہنماؤں کا سربراہی اجلاس چار گھنٹے جاری رہنے کے بعد بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوگیا ہے تاہم توقع ہے کہ مشاورت کا یہ سلسلہ کل بھی جاری رہے گا۔ زرداری ہاوس میں جاری اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری، مسلم لیگ ن کے نواز شریف، عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی خان اور جعمیت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمان سمیت اتحادی جماعتوں کے دیگر اہم رہنما شریک تھے۔ اجلاس کے اختتام پر اس میں شریک رہنما ایک ایک کر کے بغیر کسی اعلان یا پریس کانفرنس کے روانہ ہوگئے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماوں کے مطابق اجلاس میں سرفہرست معاملہ معزول ججوں کی بحالی کا ہوگا۔ مذاکرات کے آغاز سے قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار نے کہا تھا کہ عوام کو آئندہ چوبیس گھنٹوں میں معزول ججوں کی بحالی سے متعلق خوش خبری ملے گی۔ تاہم آج کے اجلاس کے اس طرح خاتمے سے محسوس ہوتا ہے کہ ایسا ممکن نہ ہوا۔ پیپلز پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ اب منگل کو بھی جاری رہے گا۔ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ان کی جماعت کی جانب سے صرف اور صرف عدلیہ اور ججز کی بحالی پر بات ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا واضح مؤقف ہے کہ پرویز مشرف کے مواخذہ کے فورا بعد ہی ججز کو بحال کیا جائے اور انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اس فیصلے پر چٹان کی طرح قائم ہیں۔ پاکستان کے نئے صدر کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ آج کے مذاکرات کے بعد عوام کو ہر سوال کا جواب مل جائےگا۔ انہوں نہ کہا کہ ان کی پارٹی کا مؤقف ہے کہ پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے پر کہا ہے کہ سیاسی قوتوں نے آمریت کی بساط پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ زرداری ہاؤس سے جاری ایک بیان میں اپنے پہلے ردعمل میں انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ سمیت تمام جمہوری قوتوں کا شکریہ ادا کیا جن کی مدد سے اتحادی حکومت صدر کے استعفے کے اہم ہدف کو حاصل کیا ہے۔ چوہدری نثار علی خاں نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کا مستعفی ہوجانا ہی کافی نہیں ہے۔ ’انہیں اپنے آٹھ سالہ تمام جرائم کا جواب انصاف کے کٹہرے میں آکر دینا ہوگا۔‘ چوہدری نثار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف کے مستعفی ہونے کا سہرا اپنی پارٹی کی بجائے پاکستان کی سول سوسائیٹیوں، سیاسی جماعتوں اور وکلاء تنظیم کو دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے زرداری ہاؤس کے باہر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف کا استعفیٰ جمہوریت اور عوام کی فتح ہے۔ نئے صدر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ اتحادی جماعتیں مل کر کریں گی۔ آصف زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کا اپنے بیان میں خصوصی طور پر صدر کے استعفے میں مثبت کردار پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا دن پاکستانی تاریخ میں جمہوریت اور عوام کے لیئے انتہائی اہم دن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی جانب واپسی میں انہیں بینظیر بھٹو جیسی شخیت کی قربانی دینی پڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ جمہوری طریقوں سے پرامن تبدیلی بھی لای جاسکتی ہے۔ متحدہ نے سندھ اسمبلی میں صدر کے خلاف قرار داد میں حصہ نہ لے کر اس کی نا تو حمایت کی تھی اور نہ مخالفت۔ اجلاس شروع ہونے سے قبل زرداری ہاوس کے باہر پیپلز پارٹی کے کارکن میٹھائیاں تقسیم کرتے رہے اور ’ایک زرداری سب پر بھاری‘ اور ’زندہ ہے بی بی زندہ‘ جیسے نعرے لگاتے رہے۔ پاکستان کے نئے صدر کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ آج کے مذاکرات کے بعد عوام کو ہر سوال کا جواب مل جائےگا۔انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا موقف ہے کہ پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ زرداری ہاؤس آمد سے قبل نواز شریف نے پنجاب ہاؤس میں اپنی پارٹی کے رہنماؤں سے مشاورت کی۔ |
اسی بارے میں اور اب سرحد میں بھی عدم اعتماد12 August, 2008 | پاکستان صدراعتماد کا ووٹ لیں:پنجاب اسمبلی11 August, 2008 | پاکستان مشرف، چارج شیٹ کی تیاریاں 11 August, 2008 | پاکستان ’مشرف مواخذے کا سامنا کریں‘09 August, 2008 | پاکستان مواخذہ: حامیوں اور مخالفین کی تیاریاں08 August, 2008 | پاکستان سندھ اسمبلی طلب کرنے کا مطالبہ08 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||