اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | زرداری اور نواز شریف کے مابین معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی پر شدید اختلافات ہیں |
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کے ساتھ ججوں کی بحالی اور دیگر امور پر ہونے والے معاہدوں کے متعلق کہا ہے کہ یہ کوئی قرآن کے الفاظ یا حدیث تو نہیں ہیں کہ ان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے ساتھ تبدیلی نہ لائی جاسکے۔ آصف علی زرداری نے سنیچر کے روز بی بی سی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں کوئی معاہدے نہیں ہوتے بلکہ مفاہمت ہوتی ہے۔ ان کے بقول سیاسی مفاہمت میں کبھی پچاس فیصد کامیابی ہوتی ہے تو کبھی کچھ زیادہ تو بھی انہیں کامیاب مانا جاتا ہے۔ ادھر سنیچر کے روز ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ججز کی بحالی پیر تک کردی جائے۔ نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ان کی حمایت مشروط ہے۔ آصف علی زرداری نے ججوں کی بحالی اور اس سے متعلق ٹائم فریم کے بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ججز بحال ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ۔ ٹائم فریم پر انہوں نے کہا کہ نہ وہ الٹی گنتی میں یقین رکھتے ہیں نہ سیدھی گنتی میں اور نہ ہی کوئی ٹائم فریم دے سکتے ہیں۔ صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے متعلق انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی انتقام میں یقین نہیں رکھا۔ ان کے بقول ذوالفقار علی بھٹو نے یحییٰ خان کا مواخذہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق بھٹو صاحب نے یحییٰ خان کا مواخذہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ پھر زیر حراست جنرل نیازی کا بھی مواخذہ ہوتا اور شیخ مجیب تو بھارت سے کہہ رہے تھے کہ جنرل نیازی ان کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کرنے والے نسیم حسن شاہ کو اقرار کے باوجود بینظیر بھٹو نے کچھ نہیں کیا۔ ’شہید بینظیر بھٹو نے ہمیشہ کہا کہ جمہوریت ہی بہتر انتقام ہے‘۔ آصف علی زرداری سے جب پوچھا کہ کیا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ان کا ساتھ چلنا اب مشکل نہیں رہا تو انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کافی عرصہ جمہوریت پسند قوتوں سے دور رہے ہیں۔ ’ہم اب بھی کوشش کریں گے کہ انہیں جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر چلیں۔‘ |