شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | اگر معزول جج بحال نہ ہوئے تو دھرنے کا دورانیہ اور دن بڑھائے جا سکتے ہیں |
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر معزول جج بحال نہ ہوئے تو وکلاء 28 اگست کو ملک کی اہم شاہراہوں پر دو گھنٹے تک دھرنادیں گے۔ سنیچر کو اسلام آباد میں قومی وکلا رابطہ کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر معزول جج بحال نہ ہوئے تو دھرنے کا دورانیہ اور دن بڑھائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھرنا دوپہر بارہ بجے سے لیکر دو بجے تک ہوگا اور ملک بھر کے تاجروں سے بھی دو گھنٹے کے لیے شٹر ڈاؤن کے لیے کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ 4 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شاہراہ دستور پر دھرنا دیا جائے گا جس میں ملک بھر کی وکلا نمائندہ تنظیموں کے ارکان شرکت کریں گے۔ اجلاس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کوقومی وکلا رابطہ کونسل کا چئرمین جبکہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی بینچ کے صدر سردار عصمت اللہ کو سکریٹری منتخب کیا گیا ہے۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ دھرنے پر امن ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان دھرنوں کو منظم کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اور کمیٹی کے ارکان اس حوالے سے ملک بھر کی تمام بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ٹریفک پولیس کے تعاون سے دھرنے کے دوران صرف سکول وین، ایمبولنس اور ڈاکٹروں کو جانے کی اجازت ہوگی۔
 | عوام میں مایوسی پھیلی ہے  حکمراں اتحاد کی طرف سے معزول ججوں کو بحال نہ کرنے سے عوام میں مایوسی پھیلی ہے اور متعدد بار اس ضمن میں وعدے پورے نہیں کیے گئے  اعتزاز احسن |
اعتزاز احسن نے کہا کہ اگرچہ عوام کو ان دھرنوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور وکلاء برادری کا ساتھ دیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ حکمراں اتحاد کی طرف سے معزول ججوں کو بحال نہ کرنے سے عوام میں مایوسی پھیلی ہے اور متعدد بار اس ضمن میں وعدے پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ معزول ججوں کو بھوربن معاہدے کے تحت بحال ہونا چاہیے۔ اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے فیصلوں کو یکسر مسترد کر دیا۔ |