BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 August, 2008, 10:58 GMT 15:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کی بحالی، تین روز میں ’سرپرائز‘

نواز اور زرداری
قابل قبول حل تلاش کرنے کی خاطر اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمٰن بھی سرگرم ہیں
صدر پرویز مشرف کے استعفے کا جشن ابھی ختم نہیں ہوا کہ حکومتی اتحاد کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ججوں کی بحالی کے معاملے پر ایک بار پھر مورچہ بندی کر لی ہے۔

گزشتہ پیر کو صدر مشرف کے استعفے کے بعد ججوں کی بحالی کے حوالے سے حکمران اتحاد کا جو دو روزہ اجلاس ہوا تھا اس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا تھا۔

اجلاس کے خاتمے پر کہا گیا کہ بات چیت میں شامل جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور قبائلی علاقے کے اراکین نے معزول ججوں کی بحالی اور دیگر معاملات پر پارٹی کے اندر اور ایک دوسرے سے مشاورت کے لیے تین دن کی مہلت مانگی ہے۔

یہ تین روزہ مہلت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے اور بظاہر معاملہ حل ہوتے نظر نہیں آتا۔ دونوں جماعتوں میں اختلاف رائے ختم کرنے اور دونوں کے لیے قابل قبول کوئی حل تلاش کرنے کی خاطر جہاں اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمٰن سرگرم ہیں وہاں دوسرے فرنٹ پر اعتزاز احسن اور آصف علی زرداری کے بعض ’فرشتے‘ بھی کوششوں میں مصروف ہیں۔

میاں محمد نواز شریف نے امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کو انٹرویو میں کہا ہے کہ جمعہ تک ججوں کی بحالی کا معاملہ حل نہ ہونے کی صورت میں وہ حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر کے اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔

وزیر قانون فاروق نائیک کا افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول ججوں کی بحالی کی حمایت کا مؤقف اپنی جگہ لیکن پیپلز پارٹی کے بعض سرکردہ رہنماؤں کے ایک گروپ کو افتخار محمد چوہدری کی بحالی پر تحفظات ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ججوں کی بحالی آئینی پیکیج کے ذریعے کی جائے۔

اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ ججوں کی بحالی سے پہلے تین نومبر دو ہزار سات سے لے کر اب تک کے سپریم کورٹ کے فیصلوں، صدر پرویز مشرف کے ایمرجنسی نافذ کرنے، میڈیا پر پابندیوں، آئین کی معطلی اور ججوں کی برطرفی کے علاوہ دیگر احکامات کو قانونی تحفظ دیا جائے۔

 سسٹم کو چلانے کی خاطر سپریم کورٹ اور صدر مشرف کے بعض اقدامات کو قانونی تحفظ دینے کے سوال پر میاں شہباز شریف اور اسحٰق ڈار سمیت ایک گروپ حامی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ پہلے جج بحال ہوں اور بعد میں قانونی تحفظ کا معاملہ طے کیا جائے
مسلم لیگ (ن)

صدر پرویز مشرف کے دیگر احکامات میں پارلیمان کے اجلاس بلانے، کابینہ کو حلف دینے سمیت بیسیوں ایسے اقدامات شامل ہیں جو حکومتی امور چلانے کے بارے میں ہیں۔ پیپلز پارٹی یہ بھی چاہتی ہے کہ ججوں کی بحالی سے قبل موجودہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر جنہوں نے صدر کے مواخذے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے معاملے میں پرویز مشرف کا ساتھ نہیں دیا، انہیں باعزت طریقے سے رخصت کرنے کا کوئی راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

ایک تجویز یہ بھی ہے کہ افتخار محمد چوہدری اور عبدالحمید ڈوگر دونوں کو چیف جسٹس نہیں رہنا چاہیے اور دونوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد حکومتی عہدے دیئے جائیں۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ افتخار محمد چوہدری متنازعہ بن چکے ہیں اور ان کا بطور چیف جسٹس رہنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔

لیکن مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما جاوید ہاشمی، چوہدری نثار اور دیگر کچھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول جج فوری طور پر ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بحال کیے جائیں اور وہ صدر اور سپریم کورٹ کے احکامات کو قانونی تحفظ کے بھی سخت خلاف ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما نے بتایا کہ سسٹم کو چلانے کی خاطر سپریم کورٹ اور صدر مشرف کے بعض اقدامات کو قانونی تحفظ دینے کے سوال پر میاں شہباز شریف اور اسحٰق ڈار سمیت ایک گروپ حامی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ پہلے جج بحال ہوں اور بعد میں قانونی تحفظ کا معاملہ طے کیا جائے۔

جبکہ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ سسٹم کو چلانے کے لیے سپریم کورٹ اور صدر کے بعض فیصلوں کو قانونی تحفظ دینا لازم ہے۔ پیپلز پارٹی کی اس رائے کی حکومتی اتحاد کی دیگر جماعتیں عوامی نیشنل پارٹی، جمیعت علمائے اسلام (ف) اور فاٹا کے آزاد اراکین مکمل حامی ہیں۔

ایسی صورتحال میں اگر میاں نواز شریف نے حکومتی اتحاد چھوڑنے کا اگر کوئی اعلان کیا، جس کا امکان بہت کم ہے تو معزول ججوں کا ایک بڑا گروپ اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ بھی کوششیں ہورہی ہیں کہ کسی طور پر افتخار محمد چوہدری کو منایا جائے کہ وہ وسیع تر قومی مفاد میں بحالی کے فوری بعد رضاکارانہ طور پر مستعفی ہوجائیں۔

 اطلاعات کے مطابق یہ بھی کوششیں ہورہی ہیں کہ کسی طور پر افتخار محمد چوہدری کو منایا جائے کہ وہ وسیع تر قومی مفاد میں بحالی کے فوری بعد رضاکارانہ طور پر مستعفی ہوجائیں

اگر افتخار محمد چوہدری وکلاء رہنماؤں کی مشاورت سے کوئی ایسا فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں پیپلز پارٹی وزیر اعظم کے مشیر اور سینیٹر سمیت کوئی بھی اہم عہدہ دینے کو تیار ہوگی۔ ججوں کی بحالی کے حوالے سے آئندہ تین روز بظاہر لگتا ہے کہ بہت اہم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومتی اتحاد سے مسلم لیگ (ن) کی علیحدگی اختیار کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ کیونکہ موجودہ حالات میں مسلم لیگ (ن) کسی قیمت پر پنجاب حکومت کی قربانی نہیں دے سکتی۔

ویسے بھی صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد عوام میں ججوں کی بحالی جیسے معاملات پر تصادم کی سیاست کو شاید پذیرائی نہ مل پائے۔

یہ رائے رکھنے والوں کا کہنا ہے مسلم لیگ (ن) نے اگر حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا کوئی فیصلہ کیا تو مسلم لیگ (ق) پیپلز پارٹی کی ممکنہ اتحادی بن سکتی ہے اور بکھرتی ہوئی مسلم لیگ (ق) مسلم لیگ (ن) کے سیاسی وجود کے لیے مستقبل میں ایک بڑا خطرہ بھی بن سکتی ہے۔

جسٹس رمدےنوکری کی بات نہیں
عدلیہ کے لیے احتجاج قوم نے کیا:جسٹس رمدے
میر جان جمالی بلوچستان کا ویزا
’بلوچستان جانے کے لیے پاسپورٹ درکار ہوگا‘
نواز شریفخصوصی انٹرویو
اتحاد، عدلیہ، امریکہ یا روٹی کپڑا اور مکان
راجہ ظفر الحقتیس دن کی مدت
’ججز تیس دن میں بحال ہو جائیں گے‘
جسٹس افتخار’عدلیہ کی بحالی‘
امریکہ سے ہیومن رائٹس واچ کا مطالبہ
وکلاء کا احتجاج’لچک نہ دکھائیں‘
آزاد عدلیہ کے بغیر منصفانہ انتخابات ناممکن
پاکستان سپریم کورٹپاکستانی عدلیہ پر دبا‎ؤ
پاکستانی عدالتی میدان میں آج سیاسی جماعتوں سے لے کر باوردی صدر تک رجوع کر رہے میں۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد