’ججوں کا فیصلہ پارلیمنٹ میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کے بارے میں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ پارلیمنٹ میں ہی ہوگا۔ سنیچر کے روز سپریم کورٹ میں پاکستان بار کونسل کو پانچ کروڑ روپے کے چیک دینے کی تقریب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے قرارداد پیر یا منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ججوں کی بحالی کے حوالے سے قرارداد پر کوئی اختلاف رائے آئے گی تو پھر اُس پر بحث کی جا سکتی ہے اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ بحث کب ختم ہوگی۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلیمنٹ کی اکثریت جو بھی فیصلہ کرے گی تمام سیاسی جماعتوں کو اُس کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ایک سوال پر کہ اگر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلٰی عدالتوں کے دیگر جج صدارتی الیکشن سے پہلے بحال ہوجاتے ہیں تو کیا انہیں قائم قام صدر سے حلف لینا پڑے گا تو وزیر قانون نے کہا کہ اس حوالے سے فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد اب پارلیمنٹ ہی سپریم ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کو جو پانچ کروڑ روپے کا چیک دیا گیا ہے وہ اُن کا حق ہے اور اس کا مقصد معزول ججوں کی بحالی کے حوالے سے وکلاء تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جب تک حکمراں اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کی طرف سے کوئی سگنل نہیں ملتا اُس وقت تک آئینی پیکج پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جائےگا۔ اس سے پہلے وکلاء رہنما علی کُرد، رشید رضوی اور حافظ عبدالرحمان نے اس تقریب سے بائیکاٹ کیا۔ اُدھر پاکستان بار کونسل نے معزول ججوں کی بحالی میں تاخیر پر جمعرات کے روز یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان بار کونسل نے بارہ ستمبر کو صوبائی بار ایسوسی ایشنز کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے جس میں وکلاء، ججوں کی بحالی کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل وضح کریں گے۔ سپریم کورٹ میں ہونے والے پاکستان بار کونسل کے اجلاس میں کثرت رائے سے پاکستان بار کونسل کی ذیلی کمیٹیوں کے چیئرمینوں کو تبدیل کردیا۔اجلاس میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کو ایک مثبت قدم قرار دیا گیا۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن سے کہا کہ وہ بھی بار کونسل کے پیلٹ فارم پر آکر ججوں کی بحالی کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک کو ہائی جیک نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اُدھر اعتزاز احسن کی صدارت میں وکلاء کی نیشنل کوارڈینیشن کا اجلاس بھی اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔ | اسی بارے میں عدلیہ کی بحالی کے لیےایک اور ڈیڈلائن22 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، تین روز میں ’سرپرائز‘21 August, 2008 | پاکستان یوم نجات، ججوں کی بحالی کا مطالبہ19 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی: ڈیڈ لائن گزرگئی 15 August, 2008 | پاکستان ’ججز بحالی، اعلانِ مری سے بھی پیچھے‘07 August, 2008 | پاکستان ’ججوں کی بحالی پر خوشخبری جلد‘19 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||