عدلیہ کی بحالی کے لیےایک اور ڈیڈلائن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکمراں اتحاد نے طے کیا ہے کہ ایک قرارداد کے ذریعے قومی اسمبلی سے آئندہ ہفتے میں معزول عدلیہ کو بحال کر دیا جائے گا۔ یہ اعلان جمعہ کو اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس میں مسلم لیگ (ن) سربراہ نواز شریف، عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی خان، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمٰن اور قبائلی علاقوں کے اراکین اسمبلی کے نمائندہ منیر اورکزئی کے درمیان مذاکرات کے بعد اخباری کانفرنس میں کیا گیا۔ فیصلوں کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دو دو نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی قومی اسمبلی کی مجوزہ قرار داد کو آئندہ دو دنوں میں حمتی شکل دے گی۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اس میں اسحاق ڈار شامل ہوں گے اور اس کا پہلا اجلاس آج یعنی جمعہ کو ہی متوقع ہے۔ نواز شریف گزشتہ منگل کو حکمراں اتحاد کے زرداری ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے تھے جس کے بعد اے این پی اور جے یو آئی نے دونوں بڑی جماعتوں سے مصالحت کے لئے تین روز کی مہلت مانگی تھی۔ اخباری کانفرنس میں نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر تجویز دی کہ قرارداد سوموار کے اجلاس میں ایوان میں پیش کر دی جانی چاہیے جس پر دو دن کی بحث کے بعد اسے بدھ کو منظور کر لیا جائے۔ تاہم مولانا فضل الرحمان نے اسے تجویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ معمالہ اگر ایک آدھ دن آگے پیچھے ہو جائے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے تاہم آئندہ ہفتے میں یہ معاملات ضرور طے پا جائیں گے۔ نواز شریف نے شکایت کی کہ ان کے پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات میں تحریری طور پر طے پایا تھا کہ صدر مشرف کی رخصتی کے بعد چوبیس گھنٹوں میں معزول جج بحال کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی اتحادی سے علیحدگی کی کوئی خواہش نہیں۔ اس اخباری کانفرنس میں پیپلز پارٹی کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ تاہم اس موقع پر موجود اے این پی کے صدر اسفندیار ولی کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں میں پیپلز پارٹی سے مشاورت اور اس کی رضامندی شامل ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد کا کہنا تھا کہ قرار داد پر پہلے بھی بہت سا کام ہوچکا ہے اور یہ صدر کے استعفے کے بعد خودبخود ہوجانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قرارداد کے ذریعے تمام قوم کو معلوم ہو کہ صدر مشرف نے تین نومبر کو غلط اقدام اٹھایا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ وہ ججوں کی بحالی اس لئے نہیں چاہ رہے کہ وہ معزول چیف جسٹس کو جانتے ہیں بلکہ وہ عدلیہ کے ادارے کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا: ’میں نہ کبھی افتخار چوہدری سے ملا ہوں نہ کبھی فون پر ان سے بات ہوئی۔ یہ ایک ادارے کا سوال ہے۔‘ اٹھارہ فروری کے بعد معزول ججوں کی بحالی کے لئے حکمراں اتحاد کی جانب سے اس طرح کی کئی تاریخیں سامنے آئیں لیکن پیپلز پارٹی کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے عدلیہ بحال نہ ہوسکی۔ ایسے میں نئی تاریخ کے بارے میں شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں مشرف کے خلاف مقدمات کا مطالبہ22 August, 2008 | پاکستان اجلاس ختم، نہ کوئی فیصلہ نہ اعلان19 August, 2008 | پاکستان یوم نجات، ججوں کی بحالی کا مطالبہ19 August, 2008 | پاکستان معزول ججوں کی بحالی پر فیصلہ آج19 August, 2008 | پاکستان مشرف مستعفی، نو سالہ دور ختم18 August, 2008 | پاکستان اجلاس: ججوں کا معاملہ سر فہرست18 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||