BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 August, 2008, 03:51 GMT 08:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جمعہ تک فیصلہ نہ ہوا تو اتحاد ختم‘
نواز شریف اور زرداری
ہم نے مواخذے کے لیے ان کا ساتھ دیا، اب ان کی باری ہے:نواز شریف
مسلم لیگ(ن) کے قائد اور پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے خبردار کیا ہے کہ اگر جمعہ تک معزول ججوں کی بحالی کا فیصلہ نہ کیا گیا تو ان کی جماعت حکمراں اتحاد کا ساتھ چھوڑ دے گی۔

لاہور میں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کو ایک انٹرویو میں نواز شریف نے کہا کہ’ ہم حکومت گرانے کی کوشش نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس حزبِ اختلاف میں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا‘۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ججوں کی معزولی نے پاکستان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ صدر مشرف کے مواخذے کے چوبیس گھنٹے کے اندر ججوں کو بحال کر دیا جائے گا۔

مسلم لیگ(ن) کے قائد نے کہا کہ’ہم نے مواخذے کے لیے ان کا ساتھ دیا، اب ان کی باری ہے کہ وہ ججوں کی بحالی کے معاملے میں ہماری حمایت کریں‘۔

 ایک شخص جس نے پارلیمنٹ کو برطرف کیا ہو، آئین کو بگاڑا ہو اور ججوں کو گرفتار کیا ہو، اسے عوام کو یہ ضرور بتانا چاہیے کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ قانون کے مطابق جو بھی فورم ہو اسے ان سوالات کے جواب دینے چاہیئیں
نواز شریف

سابق صدر مشرف کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ’میں بدلے پر یقین رکھنے والا شخص نہیں۔ اگرچہ انہوں نے مجھ سے اچھا سلوک نہیں کیا لیکن میں ان سے اس کا بدلہ نہیں لینا چاہتا۔ تاہم ایک شخص جس نے پارلیمنٹ کو برطرف کیا ہو، آئین کو توڑ مروڑ دیا ہو اور ججوں کو گرفتار کیا ہو، اسے عوام کو یہ ضرور بتانا چاہیے کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ قانون کے مطابق جو بھی فورم ہو اسے ان سوالات کے جواب دینے چاہیئیں‘۔

یاد رہے کہ صدر مشرف کے استعفٰی کے بعد ججوں کی بحالی کے حوالے سے حکمران اتحاد کا اجلاس دو دن جاری رہنے کے بعد کسی فیصلے پر پہنچے بغیر منگل کو ختم ہوگیا تھا۔ اس اجلاس کے پہلے دن وزیرِ قانون اور پی پی پی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے کہا تھا کہ ججوں کی بحالی کے بارے میں فیصلہ منگل تک کر لیا جائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔

اجلاس کے خاتمے پر کہا گیا کہ بات چیت میں شامل دو چھوٹی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور قبائلی علاقے کے اراکین نے معزول ججوں کی بحالی اور دیگر معاملات پر پارٹی کے اندر اور ایک دوسرے سے مشاورت کے لیے تین دن کی مہلت مانگی ہے۔ یہ تین روزہ مہلت بھی جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

جسٹس خواجہ شریف’آمر کو سزا دیں‘
’فوج کا غیر جانبدارانہ کردار خوش آئند‘
سابق صدر پرویز مشرفمشرف کے نو سال
آرمی چیف سےملک کے صدر کی کرسی تک
مشرفمشرف کا استعفیٰ
کوئی مخصوص فارمولا پیش نہیں کیا: برطانیہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد