BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 August, 2008, 09:31 GMT 14:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملک قیوم مستعفی، کھوسہ اٹارنی جنرل

ملک قیوم لاہور ہائی کورٹ کے جج بھی رہے ہیں

پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ لطیف کھوسہ کو نیا اٹارنی جنرل تعینات کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی وزارت قانون کے سیکرٹری آغا رفیق نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کے روز اٹارنی جنرل ملک قیوم اپنا استعفی بھجوا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس استعفے میں کہا ہے کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر یہ ذمہ داریاں مزید نہیں نبھا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ سنیٹر لطیف کھوسہ کو نیا اٹارنی جنرل بنایا جا رہا ہے اور نئے اٹارنی جنرل کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن صدر کی منظوری کے بعد جاری کر دیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری قانون نے بتایا کہ اُنہیں اس بارے میں علم نہیں ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں کام کرنے والے ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کیا مستقبل ہوگا۔ مستعفی ہونے والے ملک قیوم نے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے بھی بدھ کے روز الوداعی ملاقات کی۔

ملک قیوم کو مستعفی ہونے والے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اُس وقت اٹارنی جنرل مقرر کیا تھا جب پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف گزشتہ سال نو مارچ کو صدارتی ریفرنس میں اُس وقت کے اٹارنی جنرل مخدوم علی خان مستعفی ہوگئے تھے۔

ملک قیوم جب لاہور ہائی کورٹ میں بطور جج کام کر رہے تھے تو اُس وقت ایک آڈیو کیسٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں انہوں نے مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو مرحوم اور اُن کے خاوند آصف علی زرداری کو ایک مقدمے میں سزا سُنائی تھی۔ یہ کیسٹ منظر عام پر آنے کے بعد نہ صرف ملک قیوم کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا تھا بلکہ سپریم کورٹ نے بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو دی جانے والی سزائیں بھی کالعدم قرار دیکر مقدمے کی از سر نو سماعت کے احکامات بھی دیئے تھے۔

اٹارنی جنرل ملک قیوم کی دوسری کیسٹ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہومین رائٹس واچ نے گزشتہ سال اُس وقت جاری کی جب وہ کسی عزیز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اگر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی حمایتی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کی طرف سے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ٹکٹ ملتی ہے تو لے لیں کیونکہ انہوں نے (مسلم لیگ قاف) کی حکومت نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کرنی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اٹھارہ فروری کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں پرویز مشرف کی حمایتی جماعت کی شکست کے جہاں دیگر اسباب تھے تو وہاں پاکستان کے چیف لاء افسر کی اس کیسٹ کی وجہ سے بھی انہیں شدید نقصان اُٹھانا پڑا۔

جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کے اٹھارہ اگست سنہ دو ہزار آٹھ کو عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد اُن کے قریبی رفقاء بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں اُن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف بھی شامل ہیں جبکہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری طارق عزیز کے بھی مستعفی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد