استعفیٰ: متحدہ کا کلیدی کردار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف سے استعفیٰ لینے اور ان کے پرامن طریقے سے جانے میں متحدہ قومی موومنٹ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بدھ کو جاری لیے گئے ایک بیان میں الطاف حسین کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ گزشتہ چند روز کی سیاسی سرگرمیوں میں الطاف حسین نے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو بتایا کہ آصف علی زرداری نے فون پر الطاف حسین سے بات بھی کی اور ان کے کردار کو سراہا ہے۔ آصف علی زرداری نے اپنی قائد بینظیر بھٹو کا کی بات دوہرائی اور کہا کہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہوتا ہے‘ اور ایک بار پھر یہ ثابت ہوا ہے کہ جمہوریت ہی پر امن طریقے سے تبدیلی لاتی ہے۔ آصف علی زرداری نے الطاف حسین کا شکریہ ادا کرنے کا بیان پیر کو صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد بھی جاری کیا تھا لیکن بدھ کو اس بارے میں دوبارہ تفصیلی بیان اس وقت جاری کیا ہے جب الطاف حسین نے ملک کے صدر کے لیے آصف علی زرداری کا نام تجویز کیا ہے۔
ادھر بدھ کو آصف علی زرداری نے اپنی جماعت کے بعض سینئر رہنماؤں سے صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، ججوں کی بحالی کے طریقۂ کار پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اختلاف رائے اور نئے صدر کی نامزدگی کے بارے میں مشاورت کی ہے۔ اس مشاورتی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے صحافیوں کو بتایا کہ ملک کے نئے صدر کے امیدوار کا فیصلہ جمعہ کو پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا جائےگا۔ راجہ پرویز اشرف نے ایک سوال کے جواب میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے آصف علی زرداری کو صدر بنانے کی حمایت کے بارے میں دیے گئے بیان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ آصف علی زرداری ایک بڑی حکومتی جماعت کے سربراہ ہیں اور اس ناطے وہ صدر بن سکتے ہیں۔ دریں اثناء بدھ کو اسفد یار ولی، مولانا فضل الرحمٰن اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا سے منتخب اراکین کے نمائندے منیر اورکزئی نے آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے۔ حکومتی اتحاد کے تینوں چھوٹے فریقوں نے ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلاف رائے ختم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی ہیں۔ پروگرام کے مطابق اسفند یار ولی، مولانا فضل الرحمٰن اور منیر اورکزئی مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے بھی ملیں گے۔ آصف علی زرداری سے رات کو وکیل رہنما اعتزاز احسن بھی ملاقات کرنے والے ہیں جبکہ اس سے پہلے آصف علی زرداری اپنی جماعت کے اراکین پارلیمان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں مشرف مستعفی، نو سالہ دور ختم19 August, 2008 | پاکستان اجلاس: ججوں کا معاملہ سر فہرست18 August, 2008 | پاکستان ’ کسی ایک آمر کو تو سزا ملے‘19 August, 2008 | پاکستان ’ملک و قوم کی خاطر‘ مستعفی ہونے کا اعلان: مشرف18 August, 2008 | پاکستان ’محفوظ راستہ، آئین شکنی کو دوام‘17 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||