وکلاء کا ہنگامی اجلاس طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران اتحاد کی طرف سے ججوں کی بحالی کے لیے نئی ڈیڈلائن سامنے آنے پر ملک بھر کے وکلاء کا ہنگامی اجلاس تئیس اگست کو اسلام آباد میں طلب کرلیا گیا ہے۔ اجلاس میں وکلاء آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔ وکیل رہنما اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق جسٹس (ریٹائرڈ) طارق محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وکلاء کے نئی صورتحال پر ہنگامی اجلاس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائےگا۔
انہوں نے کہا کہ وکلاء نمائندوں کے اس ہنگامی اجلاس میں مشاورت کے بعد جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ حتمی ہوگا۔ خیال رہے کہ پندرہ اگست کو ہونے والے وکلاء کے نمائندہ اجلاس میں سابق صدر کے خلاف مواخذے کے اعلان کی وجہ سے تحریک کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وکلاء رہنماؤں نے اکیس اگست کو اپنے ہفتہ وار احتجاج کے موقع پر یہ اعلان کیا تھا کہ بائیس اگست تک جج بحال نہ ہونے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا اور احتجاج کے لیے سول نافرمانی کی تحریک، عدالتوں کی تالا بندی، بھوک ہڑتال اور دھرنا دینے میں سے احتجاج کے لیے کسی ایک طریقے کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔ | اسی بارے میں عدلیہ کی بحالی سے متعلق ایک اور ڈیڈلائن22 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، تین روز میں ’سرپرائز‘21 August, 2008 | پاکستان یوم نجات، ججوں کی بحالی کا مطالبہ19 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی: ڈیڈ لائن گزرگئی 15 August, 2008 | پاکستان ’ججز بحالی، اعلانِ مری سے بھی پیچھے‘07 August, 2008 | پاکستان ’ججوں کی بحالی پر خوشخبری جلد‘19 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||