’صدارت سندھ کا حق ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ اسمبلی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی صدارتی منصب کے لیے مکمل حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ صدارت سندھ کا حق ہے اور آصف علی زرداری اس کے لیے مورزوں ترین امیدوار ہیں۔ صوبائی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر نثار کھوڑو کی زیر صدارت شروع ہوا، جس میں وقفہ سوالات کے بعد وزیر قانون ایاز سومرو نے تمام کارروائی معطل کرنے کی گزارش کی ۔ صوبائی وزیر نے ایوان میں تحریک پیش کی، جس میں کہا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد آصف علی زرداری نے سیاسی دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور مفاہمتی کوششوں سے وفاق اور چاروں صوبوں میں اتحادی حکومت قائم کی۔ اتحادیوں کی مدد اور سیاسی دانش اور مدبرانہ صلاحیت سے انہوں نے ملک میں حقیقی معنوں میں جمہوریت بحالی کی۔اس صورتحال میں آصف علی زرداری صدر کے دفتر کے لیے انتہائی موزوں امیدوار ہیں۔ صوبائی اسمبلی نے اس تحریک کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ سابق صدر پرویز مشرف کی حمایتی سمجھی جانے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بھی اس تحریک کی حمایت کی گئی۔ متحدہ کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی شعیب بخاری کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد جب ’پاکستان نہ کھپے‘ کے نعرے لگ رہے تھے مگر آصف علی زرداری نے ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگایا اور حب الوطنی کا عملی مظاہرہ کیا۔ شعیب بخاری نے بتایا کہ صدارتی انتخاب کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین آصف علی زرداری کے تجویز اور تائید کنندگان ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جغرافیائی طور پر سندھ چھوٹا اور قد کے حساب سے بڑا صوبہ ہے جو پورے پاکستان کو پال رہا ہے، صدارت پر سندھ کا حق ہے۔
قائد حزب اختلاف جام مدد علی نے بھی اس تحریک کی حمایت کی اور کہا کہ عوام نے بینظیر بھٹو کی شہادت کو مد نظر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کو ایوان میں پہنچایا ہے، یہ اس پارٹی کا حق ہے کہ صدر اس کی مرضی کا ہو۔ انہوں نے سندھ کے عوام کو مبارک باد پیش کی کہ اس مرتبہ بھی صدر کا تعلق سندھ سے ہوگا۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ تمام اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں کا حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آصف علی زرداری صدارتی عہدے کے لیے موزوں ترین امیدوار ہیں، تین چار ماہ کے قلیل عرصے میں انہوں نے سیاسی مفاہمت کےلیے جن مدبرانہ صلاحیتوں کا اظہار کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف انتخابات کا بائیکاٹ کر رہے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اب ان کا کوئی مقصد نہیں رہ جاتا مگر وہ آصف علی زردای ہی تھے جنہوں نے انہیں قائل کیا کہ سیاسی عمل کے ذریعے ہی ڈکٹیٹرشپ کا خاتمہ ہوسکتا ہے جس کے بعد انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ تحریک منظور ہونے کے بعد صوبائی اسمبلی کا اجلاس پیر کی صبح تک ملتوی کردیا گیا۔ |
اسی بارے میں صدر پیپلز پارٹی سے ہونا چاہیے: اعتزاز18 August, 2008 | پاکستان ’صدارتی امیدوار پیپلز پارٹی سے‘18 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||