نواز لیگ حکمران اتحاد سے علیحدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے ساتھ تقریباً چھ ماہ پرانے اپنے حکمراں اتحاد کو خیرباد کہتے ہوئے سابق چیف جسٹس سعیدالزماں صدیقی کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں مسلم لیگ(ن) کی مرکزی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ان کی جماعت نے حکمران اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ پیپلزپارٹی کی طرف سے بار بار معاہدوں کی خلاف ورزی کے بعد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہایت افسوس کے ساتھ چاروں اطراف سے ناامید ہونے کے بعد اس فیصلہ پر پہنچے ہیں۔ ہمیں زبردستی اس تلخ فیصلے پر مجبور کیا گیا ہے۔ دنیا بھر کا نظام کاغذات پر طے پانے والے معاہدات کے گرد گھومتا ہے اور ہم اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کریں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے گی اور ایوان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہونے کے ناتے قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے کا بھی مطالبہ کرے گی۔ نواز شریف نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی نے صدر مشرف کے خلاف مواخذے کی کامیابی کے چوبیس گھنٹے بعد معزول جج بحال کرنے کا معاہدہ کیا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے ایک معاہدے کی کاپی صحافیوں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اس کے دونوں صفحات پر ان کے اور آصف علی زرداری کے دستخط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت صدر کا امیدوار متفقہ طور پر کسی عیر جانبدار شخص کو بنایا جائے گا یا اگر پیپلز پارٹی امیدوار سامنے لاتی ہے تو سترہویں ترمیم کے خاتمے کے بعد ایسا کر سکتی ہے۔ پنجاب حکومت پر اس اعلان کے اثرات کے بارے میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ کسی دھینگا مشتی، لڑائی مار کٹائی کے قطعاً حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ’ہم مثبت تعمیری حزب اختلاف کا کردار ادا کریں گے اور اسّی اور نوے کی دہائی کی سیاست نہیں کریں گے‘۔ نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ وہ بلاضرورت حکومت گرانے کی کسی کوشش کا حصہ یا آلۂ کار نہیں بنیں گے ۔
اس موقع پر مختصر خطاب میں سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی نے مسلم لیگ (ن) کی اصولوں کی سیاست کرنے پر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو چھوٹے صوبے بلوچستان پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ’ہمیں انیس سو اکہتر کا سانحہ نہیں بھولنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ ایسی صورتحال دوبارہ درپیش نہ ہو‘۔ حکمراں اتحاد سے علیحدگی کے اعلان سے قبل نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے ساتھ بحالی جمہوریت کے لیے مشترکہ جدوجہد پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ محترمہ بےنظیر بھٹو کے سات مل کر آٹھویں آئینی ترمیم کا خاتمہ کیا، چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستحظ کر کے پاکستان میں جمہوریت کی ٹھوس بنیاد رکھی۔ تاہم انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بار بار معاہدوں کے باوجود معزول جج بحالی نہیں کیے جا سکے۔ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں کئی دہائیوں کی مخالف کے بعد اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے نتیجے میں قریب آئیں لیکن یہ سیاسی ’رومان’ زیادہ نہیں چل سکا۔ جیسے کہ خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ صدر مشرف کے استعفے کے بعد حکمراں اتحاد ٹوٹ جائے گا وہ خدشات سچ ثابت ہوئے۔ |
اسی بارے میں حکمراں اتحاد کی ڈیڈلائن کی سیاست10 May, 2008 | پاکستان ’جمعہ تک فیصلہ نہ ہوا تو اتحاد ختم‘21 August, 2008 | پاکستان ایم کیوایم، قاف لیگ کا اتحاد برقرار02 March, 2008 | پاکستان استعفیٰ: متحدہ کا کلیدی کردار20 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی پیر تک کریں: نواز23 August, 2008 | پاکستان معاہدے حدیث یا قرآن نہیں: زرداری23 August, 2008 | پاکستان صدارت:اے این پی زرداری کی حامی24 August, 2008 | پاکستان کسی حد تک جا سکتے ہیں: شریف04 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||