زرداری کے امکانات روشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موجودہ سیاسی حالات میں حکمران اتحاد کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن کی حمایت کے بغیر بھی پیپلز پارٹی کے نامزد صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کے چھ ستمبر کو ہونے والے انتخاب میں کامیابی کے واضع امکانات ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کو صدارتی الیکشن جیتنے کے لیے آئین کے مطابق پارلیمان کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے پچاس فیصد کی سادہ اکثریت یا تین سو باون اراکین کی حمایت درکار ہو گی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اس وقت سینیٹ کے اراکین کی تعداد ایک سو، قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس، پنجاب اسمبلی کے تین سو ستر، سندھ اسمبلی کے ایک سو چھیاسٹھ ، سرحد اسمبلی کے ایک سو چوبیس اور بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد پینسٹھ ہے۔ واضح رہے کہ آئین میں درج صدارتی انتخاب کے طریقہ کار کے مطابق چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل ووٹوں کی تعداد دو سو ساٹھ بنتی ہے۔ جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ووٹ گنا جاتا ہے۔ اس طرح مجموعی ووٹوں کی تعداد سات سو دو بنتی ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد ایک سو چوبیس ہے جبکہ دوسری اتحادی جماعتیں جو آصف زرداری کے حق میں ووٹ دے سکتی ہیں ان میں متحدہ قومی مومنٹ کے پاس پچیس ، عوامی نیشنل پارٹی کے پاس تیرہ، جمیت علما اسلام کے پاس سات ، مسلم لیگ فنکشنل کے پاس پانچ اور پیپلز پارٹی شیر پاو کی ایک سیٹ کے علاوہ بارہ آزاد اراکین کو ملا کا مجوعی طور پر ایک سو ستاسی ووٹ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ قاف کے کچھ ناراض اراکین بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ سینٹ میں پیپلز پارٹی کے بارہ سینیٹر ہیں جبکہ آزاد اراکین اور دیگر اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کی تعداد کو ملا کر کم و بیش سینتالیس بنتی ہے ۔ اس طرح دونوں ایوانوں میں مجموعی طور پر دو سو چونتیس ووٹ آصف علی زرداری کو ملنےکی توقع ہے۔ اب ایک نظر ڈالتے ہیں صوبائی اسمبلیوں پر، سب سے پہلے سندھ اسمبلی کے ایک سو چھیاسٹھ کے ایوان میں سے پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم ، اے این پی ، مسلم لیگ فنکشنل کے اراکین کی تعداد ایک سو چون بنتی ہے۔ لیکن آئین کے مطابق صوبائی اسمبلیوں کے میں صدارتی امیدوار کو پڑنے والے ووٹوں کو سب سے کم اراکین والی اسمبلی کی تعداد سے ضرب دے کی ایوان کی مجوعی تعداد پر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ اس فارمولے کے مطابق سندھ اسمبلی میں آصف زرداری کے ممکنہ ایک سو چون ووٹوں کو بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی مجوعی تعداد پینسٹھ سے ضرب دے کر سندھ اسمبلی کے مجموعی ایک سو چھیاسٹھ اراکین کی تعداد سے تقسیم کیا جائے تو آصف زرداری کو ساٹھ ووٹ مل سکتے ہیں۔ اسی آئینی فارمولہ کے تحت کوئٹہ سے ہمارے ساتھی ایوب ترین کے مطابق آصف زرداری کو پینسٹھ میں سے ستاون ووٹ مل سکتے ہیں۔ سرحد اسمبلی سے بھی ستاون ووٹ اور سب سے کم پنجاب اسمبلی سے بیس کے قریب ووٹ ملنے کی توقع ہے۔ اس طرح چاروں صوبائی اسمبلیوں ، قومی اسمبلی اور سینٹ سے آصف علی زرداری کو کل سات سو دو میں سے چار سو اٹھائیس ووٹ ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے شاید پاکستان پیپلز پارٹی کو حکمران اتحاد کی ایک بڑی جماعت مسلم لیگ ن کی حمایت درکار نہ ہو۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے سنئیر رہنما محذوم جاوید ہاشمی نے بھی صدارتی امیدوار ہونے کا اعلان کیا ہے ۔ لیکن ابھی تک مسلم لیگ ن کی طرف سے ان کی نامزدگی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ |
اسی بارے میں آصف زرداری صدر بننے پر رضامند23 August, 2008 | پاکستان معاہدے حدیث یا قرآن نہیں: زرداری23 August, 2008 | پاکستان صدارت:اے این پی زرداری کی حامی24 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||