BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 August, 2008, 22:09 GMT 03:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس صدیقی اس بنچ کے سربراہ تھے جس نے سجاد علی شاہ کو نکالا

جب سپریم کورٹ دو حصوں میں تقسیم ہوئی تو جسٹس صدیقی اس بنچ کے سربراہ تھے جس نے تب کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو نکال باہر کیا
بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو جب اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے بھاری مینڈیٹ والی جمہوری حکومت کو بغیر کسی عوامی مزاحمت کے نکال باہر کیا تو جمہوریت کے حامیوں کی واحد امید سپریم کورٹ تھی۔

اس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی ’کرگزرنے والے جج‘ کی شہرت کے حامل تھے۔جسٹس سعید الزماں کو جاننے والوں کو امید تھی کہ سپریم کورٹ اس بار نظریۂ ضرورت کی بنیاد پر فوجی حکومت کی من و عن توثیق نہیں کرے گی۔

جنرل مشرف کے سیٹ اپ نے اقتدار کے ابتدائی تین ماہ میاں نواز شریف پر مقدمات قائم کرنے میں گزارے اور سپریم کورٹ کے ججوں سے حلفِ وفاداری کا تقاضا نہ کیا۔

البتہ جب چیف جسٹس صدیقی نے مری میں زیرِ حراست میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ میں بلانے اور فوجی حراست کے دوران ان سے روا رکھے جانے والے سلوک کی کھلی عدالت میں روداد سنانے کا حکم دیا تو فوجی حکومت کا دھیان سپریم کورٹ کی طرف ہوا۔

اسی دوران مسلم لیگ کے ایک سابق ایم این اے ظفر علی شاہ کی طرف سے فوجی حکومت کے قیام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا جس کے بعد فوجی حکمرانوں کا رخ عدالتِ عظمٰی کی طرف مڑ گیا اور بالاخر پچیس جنوری سنہ دو ہزار کو سپریم کورٹ کے ججوں سے وفاداری کا حلف لینے کے لیے کہا گیا۔

جسٹس صدیقی حالات کو بھانپ گئے
میاں نواز شریف کے دورِ حکومت میں سینارٹی کی بیناد پر چیف جسٹس کے عہدے پر ترقی پانے والے جسٹس صدیقی نے اپنے دور میں آئی ایس آئی کے پولیٹکل سیل کی اصلاح کرنی چاہی لیکن حالات کو بھانپ کر اس مقدمے کو نمٹانے سے گریز کیا جو آج بھی سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔

لیکن جسٹس صدیقی سمیت سپریم کے چھ ججوں نے (جسٹس ناصر اسلم زاہد، جسٹس مامون قاضی، جسٹس وجیہہ الدین احمد، جسٹس کمال منصور عالم اور جسٹس خلیل الرحمن خان) نے فوجی حکمران کی وفاداری کا حلف لینے سے انکار کر دیا۔جسٹس سعید الزماں صدیقی نے پہلی مرتبہ ایک ایسا قدم اٹھایا جس کی پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ عدلیہ کی طرف سے جنرل مشرف کے اقتدار کے خلاف یہ پہلی بغاوت تھی۔

جسٹس صدیقی کے سپریم کورٹ سے نکلنے کے بعد جنرل مشرف کو جسٹس ارشاد حسن خان کی شکل میں ایسا مددگار چیف جسٹس نصیب ہوا جس نے ایک بار پھر فوج کے اقتدار پر قبضے کو نظریۂ ضرورت کے تحت جائز قرار دے دیا۔

جسٹس سعید الزماں صدیقی، چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہونےسے پہلے ہی پاکستان میں کافی شہرت پا چکے تھے۔

اس دور کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے جب پیپلز پارٹی کی حکومت گرائے جانے کے حق میں فیصلہ دینے کے بعد جب نواز شریف کی مسلم کی چھ ماہ پرانی حکومت سے ٹھان لی تو سپریم کورٹ دو حصوں میں بٹ گئی۔

جسٹس سعید الزماں صدیقی نےسپریم کورٹ کے ان ججوں کی سربراہی کی جنہوں نے دنیا میں پہلی مرتبہ اپنے ہی چیف جسٹس کی تعیناتی کو کالعدم قرار دے انہیں عدالت سے نکال دیا۔

میاں نواز شریف کے دورِ حکومت میں سینارٹی کی بیناد پر چیف جسٹس کے عہدے پر ترقی پانے والے جسٹس صدیقی نے اپنے دور میں آئی ایس آئی کے پولیٹکل سیل کی اصلاح کرنی چاہی لیکن حالات کو بھانپ کر اس مقدمے کو نمٹانے سے گریز کیا جو آج بھی سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔

سپریم کورٹ نے ائر مارشل اصغر خان کی درخواست پر آئی ایس آئی کے پولیٹکل سیل کے بارے میں کارروائی شروع کی اور جسٹس سعید الزماں صدیقی سمیت کوئی چیف جسٹس بھی اس مقدمہ کو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا سکا۔

اس مقدمے کی بنیاد اس وقت کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کا قومی اسمبلی میں وہ بیان تھا جس کے مطابق آئی ایس آئی نے میاں نواز شریف کی جماعت آئی جے آئی کی ایک سو چالیس ملین روپے کی مدد کی تھی۔

جسٹس سعید الزماں کے دور میں ان کی ڈاکٹر اہلیہ کی حکومتی مدد سے بیرون ملک تعلیم سے متعلق بہت سی کہانیاں کردش کرتی رہیں اور بعد میں ان کی بیوی کو اسلام آباد کے ایک بڑے ہسپتال پمز کا ’عملی سربراہ‘ بنایا جانا بھی انتہائی متنازع رہا۔

جسٹس سعید الزماں صدیقی کے فوجی آمر کی وفاداری کا حلف نہ اٹھانے کے فیصلے کو ابتدا میں اتنی زیادہ پذیرائی نہ ملی جو جسٹس افتخار محمد چودھری کے حصے میں آئی ہے۔جسٹس صدیقی کی پذیرائی نہ ہونے کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ انہوں نےجس فوجی آمر کی وفاداری کا حلف لینے سے انکار کیا تھا، اسی آمر کے قلم سے جاری ہونے والے حکم کے تحت ایسی مراعات قبول کر لی تھیں جن کے وہ ابھی حقدار ہی نہ تھے۔

سید شریف الدین پیرزاہ نے جنرل مشرف سے ایک ایسا حکم نامہ جاری کرایا تھا جس کے تحت وہ تمام جج جنہوں نے جنرل مشرف کے پی سی اور کے تحت حلف لینے سے انکار کیا تھا، انہیں پینسٹھ سال کا تصور کر کے ان کی پنشن مقرر کی گئی۔ جسٹس سعید الزماں صدیقی حلف نہ لینے کے وقت باسٹھ سال کے تھے لیکن انہیں پنسٹھ سال کا تصور کر لیا گیا۔

فرحت اللہ بابر (فائل فوٹو)’جلد بازی کی گئی‘
مسلم لیگ (ن) نے جلد بازی کی: پی پی پی
 آصف زرداری آگے سیاست ہے
یہاں سے آگے نہ کوئی اصول ہے نہ کوئی نظریہ۔
مضبوط امیدوار
زرداری نون کے بغیر بھی جیت سکتے ہیں
آصف زرداری’صدر آصف زرداری‘
صدرات کے لیے آصف زرداری کا بھی نام سامنے
اسی بارے میں
نواز شریف سے معذرت: زرداری
25 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد