BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 August, 2008, 21:15 GMT 02:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز شریف سے معذرت: زرداری
آپ کو جو دکھ ہوا ہے وہ ہماری ذاتی رنجش ہے اس میں پاکستان اور جمہوریت کا کوئی قصور نہیں: زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کو جمہوریت اور پاکستان کی خاطر پھر مل کر چلنے کی دعوت دی ہے۔

انہوں نے میاں نواز شریف سے معذرت چاہتے ہوتے ہوئے کہا ’آپ کو جو دکھ ہوا ہے وہ ہماری ذاتی رنجش ہے اس میں پاکستان اور جمہوریت کا کوئی قصور نہیں۔ اس لیے میں کہوں گا کہ جمہوریت کو نقصان نہ پہنچایا جائے‘۔

پیر کی رات ایک خصوصی ٹی وی انٹرویو میں آصف علی زرداری نے کہا کہ ’اگر میاں صاحب کو کوئی دکھ پہنچا ہے تو میں اس پر معذرت خواہ ہوں‘۔

آصف زرداری نے کہا ہے ’خود میاں صاحب نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ دس جج بحالی کے لیے تیار ہیں۔ ان کے علاوہ بھی معزول جج بحالی کے لیے تیار ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہم امید رکھتے ہیں کہ میاں صاحب نہ ہمیں تکلیف پہنچائیں گے اور نہ ہم سے انہیں کوئی تکلیف ہوگی‘۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ ’ہم نے ساتھ مل کر وقت کے ایک آمر کو شکست دی اور مجھے افسوس ہے کہ آئندہ آنے والے سفر میں میاں نواز شریف نے ساتھ چلنے سے انکار کردیا‘۔

انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف اس مصیبت کے وقت میں ساتھ دیں۔ ’اگلے امتحان میں ہم ان کے ساتھ چلیں گے۔ مگر ہم اب بھی کوشاں ہیں اور کوشش جاری رکھیں گے کہ میاں نواز شریف جمہوری سفر میں ہمارے ساتھ چلیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش ہے جمہوریت طویل سفر طے کرے اور آگے اور بھی مشکلات آنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں آج بھی میاں نواز شریف سے کہتا ہوں کہ آئیں مل کر بیٹھیں‘ اکٹھے چلیں۔ اگر دکھ پہنچا ہے تو ہمیں آپ معاف کیجئے‘ چلیں آج بیٹھ کر ایک نیا پاکستان بنانے کے لئے ایک نیا باب لکھیں اور نئی بات کریں‘۔

آصف زرداری نے کہا ’میں عوام کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ سفر اتنا کٹھن ہے کہ شاید میں میں ساری باتیں عوام سے نہ کر سکوں لیکن یہ مجبوریاں اور مشکلات عوام کی نہیں بلکہ ہماری اپنی ہیں۔ ہم ان مشکلات میں، پاکستان کو آگے لے جانے میں آپ کی امنگوں پر انشاءاللہ پورا اتریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک ججوں کی بحالی کا سوال ہے تو میاں نواز شریف نے خود اپنی پریس کانفرنس میں کہ دس معزول تو آنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور دوسرے جج بھی آنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ ’میں میاں نواز شریف سے کہوں گا کہ انہیں آنے دیں۔ یہ مسئلہ حل ہونے دیں۔ پھر چیف جسٹس کی بات بھی ہو جائے گی۔ ہم ان کی بھی بات کر سکتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے دوستوں سے پہلے دن سے یہی کہا ہے کہ ہماری ایک اتحادی حکومت ہے۔ ہمارے پاس اگرچہ اتنی طاقت ہے کہ مرکز میں ہم اپنی حکومت بنائے رکھیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہم میاں صاحب کی پنجاب میں حکومت کو تکلیف یا ٹھیس پہنچائیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ میاں صاحب نہ ہمیں تکلیف پہنچائیں گے اور نہ ہم انہیں تکلیف پہنچائیں گے‘۔

بات سے باتاتحاد، تنظیم اور مکر
اتحاد، تنظیم، یقینِ محکم کی جگہ نیا نعرہ
 آصف زرداری آگے سیاست ہے
یہاں سے آگے نہ کوئی اصول ہے نہ کوئی نظریہ۔
مضبوط امیدوار
زرداری نون کے بغیر بھی جیت سکتے ہیں
آصف زرداری’صدر آصف زرداری‘
صدرات کے لیے آصف زرداری کا بھی نام سامنے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد