BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 August, 2008, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم لیگ(ن) نے جلد بازی کی: پی پی

فرحت اللہ بابر (فائل فوٹو)
’تین صوبوں کے متفقہ امیدوار کے مقابلے مںی امیدوار لانا اچھی بات نہیں‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نون کا اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ جلد بازی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد ملک و قوم کے مفاد میں تھا لیکن نواز شریف نے الگ ہونے میں جلدبازی کی۔

فرحت اللہ بابر نے مسلم لیگ نون کی جانب سے صدارتی انتخاب میں سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی کو آصف زرداری کے مقابلے میں امیدوار نامزد کرنے کے اعلان پر کہا کہ ’جب ملک کے تین دوسرے صوبوں نے آصف زرداری کو صدر بنانے پر اتفاق کیا ہے اس کے بعد اگر پنجاب کی طرف سے یہ صورتحال آتی ہے کہ وہ تینوں صوبوں کے متفقہ امیدوار کے خلاف امیدوار کھڑا کرتے ہیں تو یہ وفاق کے لئے کوئی اچھی بات نہیں ہے‘۔

متفقہ امیدوار
 ’جب ملک کے تین دوسرے صوبوں نے آصف زرداری کو صدر بنانے پر اتفاق کیا ہے اس کے بعد اگر پنجاب کی طرف سے یہ صورتحال آتی ہے کہ وہ تینوں صوبوں کے متفقہ امیدوار کے مخالف امیدوار کھڑا کرتے ہیں تو یہ وفاق کے لئے کوئی اچھی بات نہیں ہے

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان اتحاد کو بچانے کے لئے حتی الامکان کوشش کی لیکن ’وہی بات کہ میاں بیوی راضی ہونے چاہیئیں پہلے‘۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور اے این پی پیپلز پارٹی کو ملنے والے اکثریتی عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے صدارتی انتخاب میں آصف زرداری کو ہی ووٹ دے گی۔

انہوں نے کہا ’میں پیپلز پارٹی کو یہ حق دیتا ہوں۔ یہ ووٹ میں نے پیپلز پارٹی کو دینے ہیں کیونکہ میں ملک کی اکثریت کے مینڈیٹ کا احترام کرتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ 1997ء میں اے این پی کا مسلم لیگ نون کے ساتھ اتحاد تھا اور اس وقت وہ مسلم لیگ ن کے صدارتی امیدوار رفیق تارڑ کی نامزدگی پر متفق نہیں تھی لیکن اتحادی ہوتے ہوئے ان کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے اتحاد کو اس لیے بچانا چاہتے تھے کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں امن و امان کا قیام اسلام آباد میں ایک مستحکم حکومت سے مشروط ہے۔

’اتحادی کے ساتھ‘
 1997ء میں اے این پی کا مسلم لیگ نون کے ساتھ اتحاد تھا اور اس وقت وہ مسلم لیگ ن کے صدارتی امیدوار رفیق تارڑ کی نامزدگی پر متفق نہیں تھی لیکن اتحادی ہونے کی وجہ سے ان کی حمایت کی تھی
اسفندیار ولی

’میں تو یہی چلاتا رہا ہوں کہ میرے لئے بنیادی مسئلہ تو میری زندگی ہے، مجھے میری زندگی دو تب آگے جاکر آزاد عدلیہ میرے کام آئے گی۔ اگر میں زندہ نہیں رہا تو یہ تو جو بھی تم کر رہے ہو اس سے مجھے تو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا‘۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد ملک میں حزب اختلاف مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے بڑے صبر کا مظاہرہ کیا اگر وہ ان کی جگہ ہوتے تو کب کے اتحاد سے الگ ہوچکے ہوتے۔

عمران خان نے کہا کہ ملک کے عوام کی اکثریت ججوں کی بحالی چاہتی ہے اور اب جو تحریک چلے گی اس میں مسلم لیگ (ن) بھی شانہ بشانہ ہوگی جس سے عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد مزید تیز ہوگی اور حکومت پر دباؤ بڑھے گا جس کی وہ مزاحمت نہیں کر سکے گی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے مسلم لیگ نون کے اس فیصلے پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک و قوم کے مفاد میں اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ لندن سے جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی پاکستان اور جمہوریت کے مستقبل کے لیے نیک شگون نہیں۔

’مشرف خوش‘
 آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا افسوسناک دن ہے جس پر یقیناً جنرل پرویز مشرف اور ان کے رفقاء سب سے زیادہ خوش ہورہے ہوں گے
طارق محمود

انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال انتہائی نازک ہے اور ملک کو اندرونی اور بیرانی خطرات لاحق ہیں ایسے میں تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے وہ اپنے مفادات سے بالاتر ہوکر ملک کے مفاد کو فوقیت دیں۔

وکلاء تحریک کے رہنما طارق محمود نے کہا کہ آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا افسوسناک دن ہے جس پر یقیناً جنرل پرویز مشرف اور ان کے رفقاء سب سے زیادہ خوش ہو رہے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد ججوں کی بحالی کے لئے کوشاں وکلاء کا سفر اور مشکل ہوگیا ہے۔ ’ہم سوچ رہے تھے کہ جمہوریت بحال ہونے پر ہمارے لئے مصیبت کے دن ختم ہوں گے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ججوں کی بحالی کا معاملہ جو بہت آسان تھا اسے التواء میں ڈال کر اسے مزید مشکل بنادیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آنے والے دنوں میں بھی یہی کھیل تماشہ چلتا رہے گا تو پاکستان کے غریب عوام جو پہلے ہی بھوک سے دوچار ہیں ان میں مزید مایوسی پھیلے گی۔

اسی بارے میں
زرداری کے امکانات روشن
24 August, 2008 | پاکستان
نون لیگ کی علیحدگی کا آغاز
24 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد