BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 August, 2008, 21:18 GMT 02:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نون لیگ کی علیحدگی کا آغاز

احسن اقبال
ججوں کی بحالی کی حتمی تاریخ کے بغیر ڈرافٹ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت وقت کا ضیاع ہے: احسن اقبال
معزول ججوں کی بحالی کی حتمی تاریخ نہ دینے پر مسلم لیگ نون ججوں کی بحالی کی قرداد کامسودہ تیار کرنے والی کمیٹی سے الگ ہوگی ہے جبکہ وزیر قانون کے مطابق مسودہ پر بات چیت کے بغیر بات آگے نہیں بڑھے گی ۔

اتوار کے روز اسلام آباد میں معزول ججوں کی بحالی کی قرداد کا مسودہ تیار کرنے کےلیے حکمران اتحاد کی پانچ رکنی ڈرافٹ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینٹ میں قائد ایوان میاں رضا ربانی کے چمبیر میں شام ساڑھے چھ بجے شروع ہونا تھا لیکن پیپلز پارٹی کی طرف سے معزول ججوں کی بحالی کی تاریخ نہ دینے پر مسلم لیگ ن کی طرف سے ڈرافٹ کمیٹی کے رکن احسن اقبال اور اسحاق ڈار کے شرکت نہیں کی ہے ۔

پیپلز پارٹی کی طرف سے ڈرافٹ کمیٹی کے رکن میاں رضا ربانی، وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور وزیر اطلاعات شیری رحمان موجود تھے۔

پارلیمنٹ ہاؤس سے واپس جاتے ہوئے فاروق ایچ نائیک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں مسلم لیگ ن کی طرف سے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے بارے میں آگاہ نہیں کیاگیا ۔

انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ نون اگر اجلاس میں شرکت کرتی تو قرداد کے مسودہ پر بات چیت ہوتی اور بات اگے بڑھتی لیکن وہ نہیں آئے تو کیا کہا جا سکتا ہے

فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ سوموار کے روز مسلم لیگ ن کے ارکان شرکت کرتے ہیں تو ڈرافٹ کمیٹی کا اجلاس دوبارہ ہو گا۔

دوسری طرف مسلم ن کے سیکرٹری اطلاعات اور ڈرافٹ کمیٹی کے رکن احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر پیپلز پارٹی معزول ججوں کی بحالی کی تاریخ دے تو پھر قرداد کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اگر وہ قرداد برائے قرداد ہے تو پھر مسلم لیگ نون ایسی کسی مشق کا حصہ نہیں بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انہیں یہ بتایا دیا جائے کہ قرداد لانے کے بعد سوموار یا بدھ تک ججوں کو بحال کر دیا جاتا ہے تو پھر ہی کمیٹی میں بیٹھنا ممکن تھا۔

احسن اقبال نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں صدارتی امیدوار لانے یا نہ لانے اور حکمران اتحاد سے الگ ہونے کا فیصلہ کل اسلام آباد میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

واضع رہے کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے معزول ججوں کو سوموار تک بحال کرنے کی صورت میں حکمران اتحاد سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا ہے ۔ جبکہ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے معزول ججوں کو بحال کے لیے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد