ججوں کی بحالی کے لیے انوکھا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں معزول ججوں کی بحالی کے لیے احتجاج کیا جاتا رہا ہے لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں طالب علموں نے ججوں کی بحالی کے لیے احتجاج کا ایک انوکھا طریقہ اپنایا۔ مظفرآباد شہر میں سنیچر کو مقامی یونیورسٹی اور کالجز کے قریباً ڈیڑھ درجن طلبہ نے پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت تمام معزول ججز کی بحالی کے لیے اپنے سر منڈوا کر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ججز کی بحالی کے حق میں نعرہ لگائے اور انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر معزول ججز کی بحالی کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرے میں شریک ایک طالب علم صمد عباسی نے کہا ’ ہم حکمرانوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم آزاد عدلیہ چاہتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ معزول چیف جسٹس سمیت تمام معزول ججز بحال کیے جائیں‘۔
اس احتجاج میں شریک ایک اور طالب علم رمیض مغل نے کہا کہ’ ہم آزاد و خود مختار عدلیہ چاہتے ہیں تاکہ غریب لوگوں کو انصاف مل سکے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے حکمران معزول ججز کی بحالی میں لعت و لعل سے کام لے رہے ہیں جو ہمیں قبول نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ حکمران لوگوں کی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام معزول ججز کو فوری طور پر بحال کریں۔ مظاہرے میں شریک ایک اور طالبعلم اسد ابراہیم نے کہا کہ پہلے حکمران یہ تاثر دے رہے تھے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف معزول ججز کی بحالی میں رکاوٹ ہیں لیکن و ہ رکاوٹ بھی دور ہوگئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب کیا وجہ ہے کہ معزول ججز کو بحال نہیں کیا جارہا ہے۔ ان طلبہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے سر منڈوا کر احتجاج کرنے کا مقصد حکمرانوں کی توجہ حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک احتجاج کرتے رہیں گے اور سر منڈواتے رہیں گے جب تک تمام معزول ججز بحال نہیں ہوتے۔ | اسی بارے میں عدلیہ کی بحالی کے لیےایک اور ڈیڈلائن22 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، تین روز میں ’سرپرائز‘21 August, 2008 | پاکستان یوم نجات، ججوں کی بحالی کا مطالبہ19 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی: ڈیڈ لائن گزرگئی 15 August, 2008 | پاکستان ’ججز بحالی، اعلانِ مری سے بھی پیچھے‘07 August, 2008 | پاکستان ’ججوں کی بحالی پر خوشخبری جلد‘19 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||