سیاسی جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے جوڑ توڑ آخری مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ جمعہ کو جہاں آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس یعنی ’اے پی ڈی ایم، کے نو سنیٹرز نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سعید الزمان صدیقی کو ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے وہاں وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ رحمٰن ملک نے مولانا سمیع الحق اور فریال تالپور نے نیشنل پیپلز پارٹی کے اراکین سے آصف علی زرداری کی حمایت کے لیے ملاقات کی ہے۔ اے پی ڈی ایم کے سنیٹرز میں جماعت اسلامی کے سنیٹر پروفیسر خورشید، سنیٹر ابراہیم، ڈاکٹر کوثر فردوس، ڈاکٹر محمد سعد اور عافیہ ضیا، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم مندو خیل، رضا محمد رضا اور محمد ایاز خان جوگیزئی اور نیشنل پارٹی (ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ) شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ چھ ستمبر، سنیچر کی صبح ہونے والے صدارتی انتخاب میں انہیں مولانا سمیع الحق اور نیشنل پیپلز پارٹی (غلام مصطفیٰ جتوئی) نے حمایت کا یقین دلایا ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کے فارورڈ بلاک کی حمایت حاصل ہونے کے بارے میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے منتخب بارہ اراکین قومی اسمبلی اور آٹھ سنیٹرز میں سے بیشتر نے اپنے علاقوں میں فوجی کارروائی بند نہ ہونے کی صورت میں آصف علی زرداری کو ووٹ دینے سے انکار کر رکھا ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں منانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ فاٹا کے ایک رکن اسمبلی انجنیئر عبدالرشید نے بتایا کہ وہ رات گیارہ بجے بلائے گئے اجلاس میں حتمی فیصلہ کریں گے۔
صدارتی انتخاب میں تین امیدوار، پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری، مسلم لیگ (ن) کے جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی اور مسلم لیگ (ق) کے سید مشاہد حسین حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات شیری رحمٰن کا دعویٰ ہے کہ ان کے امیدوار آصف علی زرداری بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے اور انہیں پانچ سو صدارتی ووٹ ملیں گے۔ جبکہ وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید احمد شاہ نے جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آصف علی زرداری کو پونے پانچ سو سے پانچ سو تک ووٹ ملنے کی توقع ہے۔ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق پولنگ صبح دس بجے سے سہ پہر تین بجے تک جاری رہے گی اور پولنگ ختم ہونے کے بعد نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے لیے پولنگ قومی اسمبلی کے ہال میں ہوگی جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اپنی اپنی اسمبلی میں منعقد پولنگ میں ووٹ ڈالیں گے۔ پارلیمان میں منعقد پولنگ کی کارروائی کے لیے اجلاس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق کریں گے جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں منعقد پولنگ کی صدارت متعلقہ صوبے کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کریں گے۔ صدر کے انتخاب کا جو الیکٹورل کالج ہے اس کے کل ووٹوں کی تعداد گیارہ سو ستر بنتی ہے لیکن صدارت انتخاب میں ووٹوں کی گنتی کا جو فارمولا ہے اس کے مطابق کل صدارتی ووٹ سات سو دو بنتے ہیں۔
آئین کے مطابق سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں جس اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد کم سے کم ہوگی، اس اسمبلی میں فی رکن فی ووٹ گنا جاتا ہے۔ اس وقت بلوچستان اسمبلی کے اراکین سب سے کم ہیں اور یوں آئین کے مطابق سینیٹ کے ایک سو اراکین، قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس اور بلوچستان کے پینسٹھ اراکین کا فی رکن فی ووٹ گنا جائے گا۔ آئین میں دیے گئے صدارتی انتخاب کے فارمولے کے مطابق پنجاب کے تین سو اکہتر، سندھ کے ایک سو اڑسٹھ اور سرحد اسمبلی کے ایک سو چوبیس اراکین میں سے جس امیدوار کو جتنے ووٹ ملیں گے، انہیں پینسٹھ سے ضرب دے کر متعلقہ اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد سے تقسیم کریں گے تو صدارتی ووٹ نکل آئیں گے۔ شیری رحمٰن کا دعویٰ ہے کہ صدر کے الیکٹورل کالج میں آصف علی زرداری کو پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جمیعت علماء اسلام، متحدہ قومی موومنٹ، قبائلی علاقوں سے منتخب آزاد اراکین اور مسلم لیگ (ق) کے فارورڈ بلاک کے اتنے اراکین کی حمایت حاصل ہے کہ کل انہیں صدارتی انتخاب کے سات سو دو ووٹوں میں سے پانچ سو ووٹ ملیں گے۔ صدارتی انتخاب میں کامیابی کے لیے ووٹو کی مطلوبہ تعداد تین سو باون ہے اور پیپلز پارٹی کے دعوؤں اور کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آصف علی زرداری کی جیت یقینی نظر آتی ہے۔ | اسی بارے میں صدراتی انتخاب، کاغذات جمع26 August, 2008 | پاکستان ’صدر کا کردار علامتی ہونا چاہیے‘25 August, 2008 | پاکستان آصف زرداری صدر بننے پر رضامند23 August, 2008 | پاکستان صدر کا انتخاب چھ ستمبر کو22 August, 2008 | پاکستان ’صدرآصف زردی ‘ مہم شروع21 August, 2008 | پاکستان ’صدر کے خطاب کی تیاریاں مکمل‘ 18 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کے خطاب کا متن18 August, 2008 | پاکستان صدر کا خطاب شروع، کارکردگی کا دفاع18 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||