BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر کا انتخاب تیس دن میں

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صدر کا استعفی سپیکر کو بھیجا گیا ہے
پاکستان کے آئین کے تحت صدر کے مستعفیْ ہونے کے بعد تیس دنوں میں ملک کے نئے صدر کا چناؤ کیا جائے گا اور پارلیمان سمیت ملک کی چار صوبائی اسمبلیاں نیا صدر چنیں گی۔

نئے صدر کے چناؤ تک چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے۔ اس وقت سینیٹ کے چیرمین محمد میاں سومرو ہیں۔

سابق وزیر قانون ایس ایم مسعود کا کہنا ہے جب صدر کا عہدہ خالی ہوجائے تو اس عہدے کے خالی ہونے کے تیس دنوں میں صدر کا انتخاب ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت صدر کے مستعفیْ ہونے سے صدر کا عہدہ خالی ہوگیا ہے لہذا الیکشن کمشنر تیس دنوں میں نئے صدر مملکت کا انتخاب کرائیں گے۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل اکتالیس کے تحت صدر مملکت کے عہدے پر فائز صدر کی معیاد ختم ہونے سے زیادہ سے زیادہ ساٹھ دن اور کم سے کم تیس دن قبل کرایا جائےگا تاہم جب صدر کا عہدہ خالی ہوجائے تو اسی آئینی شق کے تحت صدر کا خالی عہدہ پر کرنے کے لیے انتخاب، عہدہ خالی ہونے کے تیس دن کے اندر کرایا جائے گا۔

آئین کے آرٹیکل چوالیس کے تحت صدر مملکت کے عہدے کی معیاد پانچ برس ہے تاہم ان اگر صدر اپنے عہدے سے مستعفیْ ہوں تو اس صورت میں وہ سپیکر قومی اسمبلی کے نام اپنے دستخطی تحریر کے ذریعہ اپنے عہدے سے مستعفیْ ہوسکتے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل انچاس کے تحت اگر صدر کا عہدہ صدر کی وفات ، استعفیْ یا برطرفی کی وجہ سے خالی ہوجائے تو چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر ہو گا اور اگر سینیٹ صدر کے عہدے کے فرائض منصبی انجام دینے سے قاصر ہوں تو قومی اسمبلی کا سپیکر اس وقت تک قائم مقام صدر ہوگا جب تک آئین کے مطابق کوئی صدر منتخب نہ ہوجائے ۔

آئین کے آرٹیکل اکتالیس کے تحت چیف الیکشن کمشنر صدر کے عہدے کے لیے انتخاب کا انعقاد اور انتضام کرے گا اور صدراتی انتخاب کے لیے افسر رائے شماری(ریٹرنگ آفسر) مقرر کرے گا۔

آئین کے تحت اگر کوئی بھی امیدوار دستبردار نہ ہو، یا اگر درست برداریوں کے بعد دو یا دو سے زیادہ امیدوار رہ جائیں گے تو چیف الیکشن کمشنر عام اعلان کے ذریعے امیدواروں اور ان کے تجویزکنندگان کے ناموں کا اعلان کرے گا اور خفیہ رائے دہی کے ذریعے ارکان پارلیمان وصوبائی اسمبلیاں نئےصدر کا چناؤ کریں گے۔

آئین کے آرٹیکل اکتالیس کے تحت کوئی شخص اس وقت تک صدر کی حیثیت سے انتخاب کا اہل نہیں ہوگا جب تک وہ پنتالیس سال کی عمر کا مسلمان نہ ہو اور قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کی شرائط پوری نہ کرتا ہو۔

ملک کے نئے صدر مملکت آئین کے آرٹیکل بیالیس کے تحت اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے اور پاکستان کے چیف جسٹس ان سے حلف لیں گے اور آئین کے آرٹیکل چوالیس کے تحت نئے صدر کے حلف اٹھانے کےوقت سے صدارتی معیاد شروع ہوجاتی ہے اور یہ مدت پانچ برس پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں
استعفیٰ: کہیں خوشی کہیں غم
18 August, 2008 | پاکستان
تقریر میں کیا نہیں تھا!
18 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد