عبادالحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | میاں منظور وٹو انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تھے |
پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے صنعتی امور اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ میاں منظور وٹو نے کہا ہے پاکستان مسلم لیگ نون میثاق جمہوریت کے پیش نظر اپنے صدارتی امیدوار کو دستبردار کرالے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون نے میثاق جمہوریت پر دسختط کیے ہیں جس کا بینادی نکتہ ہے کہ عوامی مینڈیٹ کی نفی نہ کی جائے۔ میاں منظور وٹو کے بقول میثاق جمہوریت کا یہ تقاضا ہے کہ مسلم لیگ نون اپنے صدارتی امیدوار کو دستبردار کرالے۔ انہوں نے مسلم لیگ قاف سے صدارتی امیدوار کو دستبردار کرانے کے لیے بھی درخواست کی۔ میاں منظور وٹو نے کہا کہ آصف علی زرداری وفاق کی علامت ہیں اور انہیں پیپلز پارٹی کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم، جمعیت علماء اسلام (ف)، فاٹا اور آزاد ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آصف زرداری کو صدراتی انتخاب میں ساڑھے چار سو ووٹ ملیں گے جبکہ ان کے بقول مسلم لیگ نون کے امیدوار جسٹس سعید الزماں صدیقی کو ایک سو چالیس سے ایک سو پچاس جبکہ مسلم لیگ قاف کے امیدوار مشاہد حسین کو ساٹھ سے ستر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ میاں منظور وٹو کا کہنا ہے کہ وہ پنجاب فتح کرنے نہیں بلکہ اپنے صدارتی امیدوار کے لیے ووٹ مانگنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک مسلم لیگ نون کے کسی ذمہ دار رکن نے پیپلز پارٹی کو حکومت پنجاب سے الگ ہونے کے لیے نہیں کہا، اگر ایسا کہا گیا تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ میاں منظور وٹو کے بقول مسلم لیگ نون کو پنجاب اسمبلی میں سادہ اکثریت نہیں ہے اور اگر پیپلز پارٹی حکومت سے الگ ہوئی تو وزیر اعلیٰ پنجاب کو اسمبلی سے دوبارہ اعتماد میں ووٹ لینا پڑے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اتحاد کے مستقبل کا حصہ صدارتی انتخاب کے بعد کیا جائے گا۔ |