صدارتی انتخابات اور قاف لیگ کی سیاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صدارتی انتخابات کی مہم اپنے عروج پر ہے اور بظاہر جوڑ توڑ جاری ہے لیکن مسلم لیگ نون اور نہ ہی پیپلز پارٹی ابھی تک مسلم لیگ قاف کو اپنے حق میں کرسکی ہے۔ البتہ ان دنوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون دونوں ہی بڑے ہی فخریہ انداز میں مسلم لیگ قاف سے رابطوں کا ذکر کرتے ہیں اور مسلم لیگ قاف کے رہنما قائد حزب اختلاف چودھری پرویز الہی بھی ان رابطوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ پرویز الہی لاہور کےگورنر ہاؤس میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر سمیت پیپلز پارٹی کے اراکین سے مل چکے ہیں اور دوسری طرف مسلم لیگ کے حلقے یہ کہتے نہیں تھکتے کہ اب مسلم لیگیوں کو ایک ہوجانا چاہیے۔ ان تینوں جماعتوں پر یہ الزامات بھی لگ رہے ہیں کہ وہ اپنے اپنے موقف سے منحرف ہوکر ایک دوسرے سے دوستی کی بات کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ آصف زرداری نے جس جماعت کو قاتل لیگ کہا اب اسی سے کچھ لو کچھ دو پر آمادہ ہیں۔نواز شریف جس کو غدار کہتے تھے اب ان کی پارٹی اسی جماعت سے ادغام کی بات کرتی ہے۔ ان الزامات کی صداقت پر انگلی اٹھانا مشکل ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ دلائل بھی روائتی سے لگتے ہیں کہ سیاست میں آج کے دوست کل کےدشمن اور کل کے دشمن آج کے دوست ہوتے ہیں۔
معروف تجزیہ نگار اور کالم نویس عباس اطہر کہتے ہیں کہ ’مسلم لیگ نون سے اتحاد کا مطلب مسلم لیگ قاف کا خاتمہ ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’نون اور قاف کا اتحاد نہیں ہوگا بلکہ قاف ،نون میں ضم ہوجائے گی اور اس کے وجود کا خاتمہ ہوجائے گا۔‘ ایسی کسی بھی صورت میں کل تک کے وزارت عظمی کے امیدوار چودھری پرویز الہی کو نواز شریف کی اطاعت کرنا ہوگی ایسا آج تک کی صورتحال میں بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ مسلم لیگیوں کے ادغام کے بعد اگر وہ اطاعت نہیں کریں گے تو نتیجہ ان کی ذات کے لیےخوفناک سیاسی تنہائی کی صورت میں نکلے گا۔ اسی طرح مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ قاف میں اعجاز الحق ایسی متعدد شخصیات موجود ہیں جو اپنی سیاست چھوڑ دینے پر تو شاید رضامند ہوجائیں لیکن پیپلز پارٹی سے کسی صورت اتحاد نہیں کریں گے۔ خود چودھری برادران آج تک پی پی مخالف سیاست کرتے رہے ہیں وہ پیپلز پارٹی کو اپنے بزرگ چودھری ظہورالہی کا قاتل قرار دیتے ہیں۔ سیاست ممکنات کا کھیل ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی موروثی مخالفت کو بالائے طاق رکھ کر پیپلز پارٹی سے مل جائیں لیکن اس صورت میں خدشہ ہے کہ کٹر پی پی پی مخالف ان کے ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد ٹوٹ کر مسلم لیگ نون سے جاملےگی، جو نہیں مل سکیں گے وہ ادھر ادھر ہوجائیں گے اور شاید مسلم لیگ قاف کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے۔
یہ باتیں غالبا مسلم لیگ قاف کے کرتا دھرتا افراد کو بخوبی سمجھ لگ چکی ہیں اسی لیے ان کے صدارتی امیدوار مشاہد حسین ہار جیت سے بے پرواہ میدان انتخاب میں سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ وہ کھل کر اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں وہ واحد امیدوار ہیں جنہوں نے براہ راست آصف زرداری کی ذات کو نشانہ بنایا ہے اور ان کی ذہنی صحت کے بارے میں سوال اٹھایا ہے۔ ان کے برعکس مسلم لیگ نون احتیاط کا دامن تھامے ہوئے ہےاور جب بیرسٹر فاروق حسن نے شہباز شریف سے ملاقات کے بعد یہ بیان جاری کیا کہ شریف برادران آصف زرداری کی دماغی صحت کے بارے میں مبینہ رپورٹیں اکٹھی کر رہے ہیں تو شہباز شریف نے واضح الفاظ میں اس لاتعلقی کا اظہار کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ قاف کے پاس اب کھونے کے لیے اقتدار نہیں ہے اس لیے وہ کھل کر چوکے چھکے لگا رہی ہے۔ وہ شایداس انتظار میں ہے کہ موجودہ حکمران کارکردگی دکھانے میں فیل ہوں اور عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ پرویز مشرف کی سربراہی میں مسلم لیگ قاف کا دور پھر بھی اچھا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||