اجلاس میں نہ گرما گرمی نہ تلخ کلامی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک میں حکمراں اتحاد کے ٹوٹ جانے پر اکثرلوگ افسردہ ہیں۔ اس کا بہترین احساس قومی اسمبلی کے آج کے اجلاس سے بھی ہوتا ہے۔ ایک بڑے طوفان کے بعد کی خاموشی تھی، نہ کوئی گرما گرمی اور نہ کوئی تلخ کلامی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے حکمراں اتحاد کے اندر کی دو بڑی جماعتوں کے اراکین جیسے کہ کسی طویل تھکا دینے والی جنگ کے بعد اب تھوڑا آرام کرنا چاہتے ہوں۔ مسلم لیگ (ن) کے اکثر اراکین تو سیشن کے آغاز پر موجود بھی نہیں تھے لیکن خواجہ آصف اور حنیف عباسی جیسے اراکین اگر خراماں خراماں آئے بھی تو چند منٹ بعد اپنی اپنی پرانی نشست پر برجمان ہونے کے بعد روانہ ہوگئے۔ سپیکر فہمیدہ مرزا نے ابھی مسلم لیگ (ن) کو حزب اختلاف کی نشستیں نہیں دی ہیں۔ شاید اسی وجہ سے نواز لیگ نے ابھی باضابطہ طورپر حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا شروع نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل وہ کچھ سستانا چاہ رہی ہے۔ معمول سے پینتیس منٹ تاخیر سے شروع ہونے والے آج کے اجلاس میں ایسا بھی محسوس ہو رہا تھا کے جیسے کوئی ایجنڈا بھی نہیں تھا۔ سپیکر کی جانب سے اجلاس کے آغاز کے قیمتی پینتالیس منٹ صرف نکتہ اعتراضات کو دینے سے لگتا تھا کہ سپیکر بھی جانتی ہیں کہ وقت کی کمی کا جیسا آج انہیں کوئی خاص مسئلہ درپیش نہیں۔ ورنہ ماضی میں نکتہ اعتراض پر بات کی اجازت مانگنا سپیکر کے غصے کو دعوت دینے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ نکتہ اعتراضات کے معیار کا یہ حال تھا کہ ایک رکن نے رمضان میں گھروں میں پکوڑے پکانے کی روایت کے پیش نظر حکومت سے بیسن کے سٹاک بتانے کا تقاضا کیا۔ اس پر سپیکر کوکہنا پڑا کہ پھر تو تیل کے بارے میں بھی معلوم کرنا پڑے گا۔ ایک اور خاتون رکن نے حکومت سے پاکستان کے پرانے معیاری وقت کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ تراویح اور سحری میں آرام کا لوگوں کو زیادہ وقت میسر ہوسکے۔ کئی اراکین نے پشاور اور کراچی جیسے شہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ جیسے اہم مسائل کی جانب توجہ نکتہ اعتراض کے ذریعے مبذول کرنے کی کوشش بھی کی تو ایوان میں متعلقہ وزیر نہ ہونے کی وجہ سے سنی بات ان سنی ہوگئی۔ بڑی تعداد میں اراکین اسمبلی بےشمار نجی ٹی وی چینلز جا کر لائیو بحث مباحثوں میں حصہ لینے کو اجلاس میں شرکت پر ترجیع دیتے ہیں۔ اس وجہ سے بھی شام کے اجلاسوں کی رونق میں کمی واقع ہوتی ہے۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی موجودگی سے بھی اجلاس میں کوئی رونق نہ آسکی۔ بلکہ انہوں نے خود ملکی حالات پر اظہار خیال کے لیے ایوان کی بجائے اخباری کانفرنس کو چنا۔ ایوان میں آج کے اجلاس کی خاموشی سے کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ حزب اختلاف کے مضبوط ہونے، معزول ججوں کی بحالی میں تاخیر اور حکومت کی غیراطمینان بخش کارکردگی ایسے مسائل ہیں جو آنے والے سیشن میں صحافیوں کے لیے کافی دلچسپی کا سامان پیدا کریں گے۔ | اسی بارے میں مواخذہ: حامیوں اور مخالفین کی تیاریاں08 August, 2008 | پاکستان مسلم لیگ نون کی کابینہ میں واپسی08 August, 2008 | پاکستان حامیوں کا صدر کو بچانے کا عزم09 August, 2008 | پاکستان سندھ اسمبلی طلب کرنے کا مطالبہ08 August, 2008 | پاکستان ’مشرف مواخذے کا سامنا کریں‘09 August, 2008 | پاکستان مشرف، چارج شیٹ کی تیاریاں 11 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||