انتخاب: سیاسی سرگرمیوں میں تیزی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صدارتی انتخاب کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں اور فریقین اپنے اپنے امیدواروں کو کامیاب کروانے کے لیے کل کی ناپسندیدہ سیاسی جماعتوں سے رابطوں میں مصروف ہیں۔ صدارتی انتخاب کی سرگرمیوں میں چاندی تو مسلم لیگ (ق) کی ہوئی ہے کیونکہ انہیں کل تک قاتل لیگ کہنے والی پیپلز پارٹی اور جرنیلوں کا بچہ جمورا کہنے والی مسلم لیگ نواز اب انتہائی احترام سے اس کا نام لیتے ہیں اور چوہدری شجاعت اور پرویز الہیٰ سے ملاقاتوں کے لیے بھی بے تاب ہیں۔ اس امر کی نشاندہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری پرویز الہیٰ نے خود بھی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل تک جو مسلم لیگ (ق) کو پارٹی نہیں مانتے تھے اور بکھر جانے کی باتیں کر رہے تھے وہ آج تعاون کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرادری کی جہاں چوہدری شجاعت سے فون پر رابطے کی اطلاعات ہیں وہاں اسحٰق ڈار اورچوہدری شجاعت میں رابطے کی باتیں ہورہی ہیں اور بدھ کی شام ملاقات کا امکان بھی ہے۔ مسلم لیگ (ن) جو کل تک متحدہ قومی موومنٹ کو ایک فاشسٹ جماعت کہہ کر بات چیت سے انکاری تھی اب انہیں اپنے نعرے یاد دلا رہی ہے کہ ’کسی وڈیرے کے بجائے متوسط طبقے کے امیدوار کی حمایت کریں۔‘
پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ آصف علی زرداری کو نیا صدر منتخب کرانے کے لیے اُسے مطلوبہ تعداد سے کہیں زیادہ اراکین کی حمایت حاصل ہے لیکن اس کے باوجود بھی جہاں وزیراعظم گیلانی زرداری کے لیے ووٹ مانگنے میں سرگرم ہیں وہیں وزیر اعلیٰ سندھ اور پنجاب کے گورنر بھی وزیراعظم سے پیچھے نہیں۔ پنجاب کے گورنر نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں پنجاب حکومت کو جوڑ توڑ کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرنے سے خبردار کیا ہے وہاں اس کا جواب دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’ہارس ٹریڈنگ نہیں کر رہے اور گورنر بات کرنے سے پہلے آئینہ دیکھیں۔‘ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بدھ کی صبح آفتاب احمد شیر پاؤ سے ملاقات میں حمایت کی درخواست کی ہے۔ آفتاب شیر پاؤ نے تقریبا رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے مشاورتی اجلاس کے بعد اس کا اعلان کریں گے۔ آفتاب شیر پاؤ سے آصف علی زرداری نے خود بھی بات کی ہے اور سکیورٹی کی وجہ سے ان کے پاس نہ آنے پر معذرت بھی کی۔
لیکن مولانا فضل الرحمٰن جو حکمران اتحاد کا حصہ ہیں انہوں نے زرداری کا ایک نامزدگی فارم تجویز اور تائید کے ساتھ الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کے بعد بھی مرکز میں دو وزارتیں، بلوچستان کی گورنری اور اتوار کے بجائے جمعہ کو ہفتہ وار چھٹی مقرر کرنے کے مبینہ مطالبات کیے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے علیحدگی کے بعد ان کے بعض رہنما آصف علی زرداری پر تابڑ توڑ زبانی حملے کرتے رہے لیکن زرداری کی جانب سے ججوں کی بحالی کا وعدہ پورا نہ کرنے پر معذرت کے بعد اب سترہویں ترمیم کے خاتمے کے لیے دوبارہ تعاون کی باتیں بھی سننے میں آ رہی ہیں۔ سترہویں ترمیم صدر پرویز مشرف نے متعارف کروائی تھی، جس میں اسمبلی توڑنے، فوجی سربراہان اور گورنرز سمیت اہم تقرریوں سمیت اختیارات پارلیمان (وزیراعظٌم) سے لے کر صدر کو منتقل کیے گئے اور کسی بھی شخص کے تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی عائد کی گئی۔ تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی کا خاتمہ میاں نواز شریف کی مجبوری ہے اور یہ آصف زرداری کے پاس ترپ کا ایسا آخری پتا ہے جو صدارتی انتخاب کی بازی پلٹ سکتا ہے۔ میاں نواز شریف کو بھی احساس ہے کہ اگلی بار یہ پابندی ختم کرنے کے لیے انہیں دو تہائی اکثریت شاید ہی مل پائے اور ایسے میں ان کے لیے اپنے صدارتی امیدوار سعید الزمان صدیقی اور ان کے متابدل امیدوار روئیداد خان کو دستبردار کرانے کا سودا مہنگا نہ ہوگا۔ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ خود کو بلا مقابلہ صدر منتخب کروانے کے لیے آصف علی زرداری کے پاس مسلم لیگ نواز کو شیشے میں اتارنے کے لیے سترہویں ترمیم کا کارڈ تو موجود ہے لیکن مسلم لیگ (ق) کو منانے کے لیے بھی انہیں کسی گیدڑ سنگی کا بندوبست کرنا ہوگا۔ الیکشن کمیشن کو صدارتی انتخاب کے لیے بتیس امیدواروں کے سڑسٹھ نامزدگی فارم وصول ہوئے ہیں اور جمعرات اٹھائیس اگست کو ان کی جانچ پڑتال کا عمل شروع ہوگا۔ بتیس امیدواروں میں سے بیشتر کے کاغذات نامزدگی پورے نہیں اور وہ مسترد ہوسکتے ہیں۔ صدارتی انتخاب کے اکھاڑے میں فی الوقت تین امیدواروں میں ہی مقابلہ نظر آرہا ہے جو آصف علی زرداری، جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی اور سید مشاہد حسین ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||