BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 August, 2008, 13:05 GMT 18:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ابھی آدھے ججوں کی بحالی باقی ہے

جسٹس انور ظہیر جمالی
سندھ ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس جسٹس انور ظہیر جمالی
سندھ ہائی کورٹ کے آٹھ ججوں کی بحالی کے بعد صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں برطرف ہونے والے ججوں میں سے آدھے ججوں کا معاملہ طے پاگیا ہے۔

گزشتہ برس تین نومبر کو صدر مشرف نے سپریم کورٹ اور چاروں ہائی کورٹس کے مجموعی طور پر ساٹھ جج برطرف کیے۔

وکلاء کے ایک رہنما ایڈووکیٹ اطہر من اللہ کے مطابق انیس ججوں نے صدر مشرف کے نافذ کردہ عبوری آئینی حکم یعنی ’پی سی او‘ کے تحت حلف اٹھایا۔

ان کے مطابق باقی اکتالیس ججوں میں سے دو ججوں نے حکومت کی پیش کردہ ملازمتیں قبول کرلیں جبکہ دو جج ریٹائر ہوگئے اور باقی سینتیس ججوں میں سے سندھ ہائی کورٹ کے آٹھ ججوں نے حلف اٹھالیا۔ اب انتیس ججوں کی بحالی باقی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے آٹھ ججوں کے دوبارہ حلف اٹھانے پر حکومت اور وکلاء رہنماؤں کا ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔

اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ وکلاء لاٹھیاں اور گولیاں کھا کر بھی ثابت قدم رہے لیکن کچھ جج ’جھانسے میں آگئے ہیں‘ جس پر انہیں بڑا دکھ پہنچا ہے۔

اطہر من اللہ، جو خود کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا ترجمان بھی کہتے ہیں ، کہتے ہیں کہ معزول ججوں کی جزوی بحالی آزاد عدلیہ کی روح کے خلاف ہے۔

ادھر وزیر قانون فاروق نائیک سمیت بعض وزیر سندھ ہائی ورٹ کے آٹھ ججوں کی بحالی کو اپنے وعدوں کی تکمیل کی طرف ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باقی جج بھی جلد بحال ہوں گے۔

وزارت قانون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت باقی معزول ججوں کی بحالی کے لیے ان سے رابطے میں ہے اور اگلے مرحلے میں لاہور ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے ججوں کی بحالی متوقع ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے آٹھ ججوں کی بحالی کے بعد دوبارہ حلف لینے کے بارے میں بھی حکومت اور وکلاء رہنماؤں کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔

اعتزاز احسن سمیت بعض وکلاء رہنما کہتے ہیں کہ دوبارہ حلف اٹھانے والے ججوں کی سینیارٹی نہیں مانی جائے گی۔ لیکن وزیر قانون کہتے ہیں کہ دوبارہ حلف آئینی تقاضہ ہے اور اس سے متعلقہ ججوں کی سینیارٹی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

بعض مبصرین کہتے ہیں کہ وزیراعظم کی جانب سے معزول چیف جسٹس کو ججوں کا امام کہنے اور ان سمیت تمام ججوں کی بحالی کے بیان کے باوجود بھی ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو افتخار محمد چوہدری کے بارے میں تحفظات ہیں اور دوسرا یہ کہ اس معاملے میں پیپلز پارٹی ججوں کی بحالی کا کریڈٹ بھی خود لینا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں
نواز شریف سے معذرت: زرداری
25 August, 2008 | پاکستان
حکمراں اتحاد، کب کیا ہوا
25 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد