حکمراں اتحاد، کب کیا ہوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نواز نے پیر 25 اگست کو حکمراں اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان اتحاد کا سفر دو ہزار چھ میں شروع ہوا تھا جب دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے۔ پاکستان میں عام انتخابات کا وقت جب قریب آیا تو بے نظیر بھٹو نے وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا اور اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کو کراچی پہنچیں جہاں ائرپورٹ سے آتے ہوئے ان کے جلوس پر بم سے حملہ کیا گیا۔ وطن آنے کے تقریبا دو ماہ بعد راولپنڈی میں لیاقت باغ میں ایک جلسہ سے خطاب کرنے کے بعد ان پر حملہ کیا گیا جس میں وہ ہلاک ہوگئیں۔ محترمہ بے نظیربھٹو کے قتل کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری کو پارٹی کی صدارت دی گئی۔ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ نواز اور سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ ان پارٹیوں نے اتحادی حکومت بنانے کا فیصلہ کیا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان ججوں کی بحالی کا سفر نو مارچ کو مری میں شروع ہوا تھا۔ نو مارچ دو ہزار آٹھ کو مری کے مقام پہ دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان چھ نکاتی سربراہی اعلامیہ طے پایا تھا جس میں تیس دن کے اندر ججوں کو بحال کرنے کے فیصلہ پر بھی اتفاق ہوا تھا۔ مری مذاکرات کے بعد جب جج بحال نہ ہو سکے تو اکیس اپریل کو دونوں اتحادیوں کے درمیان دبئی میں مذاکرات کا ایک اور دور شروع ہوا۔ اکیس اپریل کے بعد اٹھائیس اپریل کو دوبارہ شہباز شریف کی صدارت میں مذاکرات ہوئے لیکن وہ بھی ناکام رہے۔ اس کے بعد نواز لیگ کے صدر نواز شریف نے خود دبئی جانے کا فیصلہ کیا۔ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے شریک چئیر مین آصف زرداری سے تیس اپریل اور یکم مئی کو مذاکرات کئے جس میں ججوں کو بارہ مئی تک بحال کرنے پر اتفاق طے پایا اور ججوں کو بحال کرنے کے لیے ایک آئینی پیکج تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ۔دو مئی کو وفاقی وزیر برائے قانون فاروق نائیک نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ آصف زرداری ججوں کی بحالی نہیں چاہتے۔ نو مئی کو دونوں اتحادیوں کے درمیان ججوں کی بحالی پر جاری مذاکرات کا ایک اور دور لندن میں شروع ہوا جو پہلے کی طرح ایک بار پھر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔ جس کے فوراً بعد مسلم لیگ نواز نے وفاق کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور تیرہ مئی کو مسلم لیگ نواز کے نو وزراء نے وزیر اعظم پاکستان کو اپنے استعفے دے دیے۔ سات اگست کو دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے صدر پرویز مشرف کے مواخذہ کا اعلان کیا اور ساتھ میں یہ معاہدہ طے پایا تھا کہ صدر کے مواخذہ یا استعفی کے دوسرے روز ہی ججز کو بحال کر دیا جائے گا۔اس معاہدے پر دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کےدستخط موجود ہیں۔ چند روز بعد ہی پرویز مشرف نے اپنے صدارتی عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا لیکن معاہدے کے مطابق ججز چوبیس گھنٹے میں بحال نہ ہو سکے۔ مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے درمیان ایک اور اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد جمعیت علماء اسلام ، اے این پی اور فاٹا کے رہنماؤں نے تین روز کا وقت مانگا۔ تین روز گزر جانے کے بعد پیپلز پارٹی نے پیر کے روز قومی اسمبلی میں ایک قرارداد کے ذریعے ججز کی بحالی اعلان کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نواز کے ساتھ معاہدے ہیں لیکن یہ ’ حدیث اور قرآن نہیں ہیں۔‘ آصف زرداری کے اس بیان کے بعد مسلم لیگ نواز کے رہنما میاں نواز شریف نے پیر کو اپنی پارٹی کے ایک اجلاس کے بعد پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے راستے جدا کرنے کا اعلان کر دیا۔ | اسی بارے میں استعفیٰ: متحدہ کا کلیدی کردار20 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی پیر تک کریں: نواز23 August, 2008 | پاکستان معاہدے حدیث یا قرآن نہیں: زرداری23 August, 2008 | پاکستان صدارت:اے این پی زرداری کی حامی24 August, 2008 | پاکستان کسی حد تک جا سکتے ہیں: شریف04 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||