BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 May, 2008, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سمجھوتے کی پوزیشن میں نہیں‘

جسٹس افتخار
جن جج صاحبان نے حلف اٹھانے سے انکار کیا ان پر فخر ہے:جسٹس افتخار
پاکستان سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ وکلاء اور جج صاحبان کسی صورت میں سمجھوتے کی پوزیشن میں نہیں رہے اور عوام نے مینڈیٹ دے کر انہیں اس جگہ پر کھڑا کر دیا ہے کہ اب صرف آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی بات کرنی پڑے گی۔

کراچی سٹی کورٹس بار میں جمعرات کی دوپہر ٹیلیفون پر وکلا، سول سوسائیٹی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو خطاب کرتے ہوئے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ’اس کے علاوہ ہم نے دیگر کوئی بات سوچی تو یہ قوم ہمیں معاف نہیں کرے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کبھی بھی قانون کا بول بالا نہیں ہوا اور کسی نہ کسی طریقے سے عدلیہ اور آئینی کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو ختم کرنے کے لیے بہانے تلاش کیے جاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی اس ملک پر کسی آمر نے طالع آزمائی کی، اس نے آئین کو معطل کیا اور آٹھ سے دس سال حکمرانی کی اور آخر میں عدالت سے اس کی توثیق حاصل کی، چند دنوں کے لیے حکومت کا اختیار سیاستدانوں کو دیا گیا بعد میں دوبارہ یہ مشق شروع ہوگئی۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا تھا کہ’بحیثیت چیف جسٹس آف پاکستان میں اس تمام صورتحال سے عدلیہ کو مبرا نہیں سمجھتا اور میرے نزدیک اگر عدلیہ انیس سو چون سے لیکر انیس سو اٹھاون، اور انیس سو اٹھہتر میں مختلف اہم مقدمات میں ان کی حوصلہ افزائی نہ کرتی تو شاید آج کا دن ساٹھ سال کے بعد دیکھنے کو نہیں ملتا‘۔

 ساٹھ سالوں میں پہلی مرتبہ سیاسی جماعتوں نے اصولوں کی سیاست شروع کر دی ہے۔ تاریخ دیکھیں تو کسی سیاسی جماعت نے کبھی اتنی بڑی قربانی نہیں دی جس طرح ایک سیاسی جماعت نے اپنی پندرہ وزارتیں چھوڑ کر دی ہے ہم اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
جسٹس افتخار

ان کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں نے اس ملک میں آئین کی بالادستی یا قانون کی حکمرانی میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا بلکہ ملک پیچھے سے پیچھے جاتا رہا۔ ’ساٹھ سال کے بعد ہم نے ایک طویل سفر طے کیا اور ایک دن ایسا آیا جو وکلاء، جج صاحبان ، سول سوسائٹی اور سولہ کروڑ عوام نے پہلی مرتبہ یہ سوچنا شروع کیا کہ اب بہت ہو چکا اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس افتحار محمد چودھری کا کہنا تھا کہ جن جج صاحبان نے حلف اٹھانے سے انکار کیا انہیں ان پر فخر ہے اور وہ پی سی او کے تحت حلف لینے والوں کو جج تسلیم نہیں کرتے۔’چند حضرات نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ کسی کا شخصی حلف اٹھائیں قوم نے ان کی جو عزت کی وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے ماروائے آئین اقدامات کی نہ صرف تائید کی ایسے حلف کی پاسداری کی جس کا کوئی جواز نہیں ملتا انہیں نہ صرف اپنے بچوں بلکہ قوم کے سامنے بھی جوابدہ ہونا پڑے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے اٹھائیس فروری کو بتادیا کہ پاکستانی قوم باضمیر اور باغیرت قوم ہے اور اپنی غیرت کا دفاع کرنا ہر صورت میں جانتی ہے اور اسی غیرت سے انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

کراچی میں عوام کے ہاتھوں ڈاکوؤں کی تشدد میں ہلاکت کے واقعے کا ذکر کیے بغیر جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ عوام نے تنگ آ کر وہ راستہ اختیار کرنے شروع کر دیے ہیں جس کو ہم ہجوم کا انصاف کہتے ہیں جو اچھی بات نہیں ہے۔

 چند حضرات نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ کسی کا شخصی حلف اٹھائیں، قوم نے ان کی جو عزت کی وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے ماروائے آئین اقدامات کی نہ صرف تائید کی ایسے حلف کی پاسداری کی جس کا کوئی جواز نہیں ملتا انہیں نہ صرف اپنے بچوں بلکہ قوم کے سامنے بھی جوابدہ ہونا پڑے گا۔
جسٹس افتخار

ان کے مطابق’ اس سے پیشتر کہ لوگوں کا غم وغصہ اور زیادہ بڑ ھے ہم پر یہ فرض ہوتا ہے ہم ایسے ہجوم کے انصاف کی نہ صرف مذمت کریں جتنا جلد ممکن ہو سکے اپنے اداروں کو دوبارہ بحال کریں اور کروائیں اور کوشش کریں کہ لوگوں میں عدلیہ کے لیے دوبارہ اعتماد بحال ہو‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ساٹھ سالوں میں پہلی مرتبہ سیاسی جماعتوں نے اصولوں کی سیاست شروع کر دی ہے۔ تاریخ دیکھیں تو کسی سیاسی جماعت نے کبھی اتنی بڑی قربانی نہیں دی جس طرح ایک سیاسی جماعت نے اپنی پندرہ وزارتیں چھوڑ کر دی ہے ہم اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ تمام وکلاء جج، سول سوسائٹی اور ایلیٹ کلاس یہ سمجھ چکی ہے کہ بغیر آئین کی بالادستی اور بغیر قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے اس ملک کے حالات صحیح نہیں ہوں گے اور وہ دیگر سیاسی جماعتوں سے توقع کریں گے کہ وہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے اور خاص طور پر وہ سمجھوتہ جس میں ذاتی مفاد کا عمل دخل ہو۔

ان کے خطاب کے موقع پر کراچی بار میں سندھ ہائی کورٹ کے معزول جج صحابان جسٹس صبیح الدین احمد، سرمد جلال عثمانی اور جسٹس مشیر عالم بھی موجود تھے۔

جسٹس صبیح الدین احمد نے اپنے خطاب میں بحالی کے لیے حکومتی رابطے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بحالی کے لیے ان سے رابطہ ہوا تھا اور کہا گیا کہ ہائی کورٹ کو بحال کیا جا سکتا ہے مگر سپریم کورٹ میں ججز بڑھانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے جس کے لیے وقت درکار ہوگا۔

جسٹس صبیح کے مطابق ’ہم نے کہا ٹھیک ہے اگر ہائی کورٹس بحال ہو سکتی ہیں تو انہیں تسلیم کرنے میں کوئی انکار نہیں ہے۔ مگر جب یہ کہا گیا کہ آپ کو نئے سرے سے مقرر کیا جائے گا تو پھر ہمارے لیے یہ چیز قابل قبول نہیں تھی کیونکہ اس کا مقصد اس اقدام کو تسلیم کرنا تھا جو غیر آئینی تھا‘۔

وزیر اطلاعات شیری رحمٰنججوں کی بحالی
’بحران پیدا ہو گا‘شیری رحمٰن کا ٹیکسٹ بیان
وکلاءہم نہیں مانتے
ججوں کی مجوزہ بحالی میں ایک نئی رکاوٹ
نیا آئینی تصادم؟
ججز کی بحالی - ایک قدم آگے دو قدم پیچھے
مولانا فضل الرحمنقرارداد سے بحالی
ججوں کی بحالی کے اعلان پر ملا جلا ردِعمل
بحالی پیکج کے تحت
موجودہ جج بھی کام کرتے رہیں گے: زرداری
جسٹس افتخار چودھریبحالی میں دیر کیوں؟
ججوں پر حکمران اتحاد میں اختلافات واضح
راجہ ظفر الحقتیس دن کی مدت
’ججز تیس دن میں بحال ہو جائیں گے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد