امریکی جاسوسی فضا سے، زمین پر پاکستان مضبوط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس وقت بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات کے تبادلے میں آنے والا تعطل ہے۔ پاکستان، افغانستان اور امریکی فوجی حکام نے گزشتہ برس معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کی غرض سے جوائنٹ انٹیلیجنس آپریشن سینٹرز قائم کیے تھے تاہم فریقین میں بداعتمادی کم کرنے میں ان سے کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ امریکی فوجی حکام اب پاکستان کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے بجائے بظاہر خود کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کی واضح مثال گزشتہ دو ہفتوں کے دوران افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی جانب سے قبائلی علاقوں میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے ذریعے یکے بعد دیگرے حملے ہیں۔ عسکری تجزیہ نگار بریگیڈئر شوکت قادر اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ اتحادی ہونے کے باوجود ایک دوسرے پر شک کر رہے ہیں۔ ’امریکہ اپنی خفیہ معلومات کی بنیاد پر اب خود کارروائیاں کر رہا ہے لیکن وہ یہ معلومات پاکستان کو دیتا تو عام شہریوں کی ہلاکت سے بچا جاسکتا تھا۔‘
ماہرین کے مطابق قبائلی علاقوں میں دو طریقوں سے خفیہ معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ایک تو بغیر پائیلٹ کے جاسوس طیاروں کے ذریعے جس کی صلاحیت امریکہ کے پاس ہے۔ دوسرا زمین پر موجود مخبروں کے ذریعے جس کا نیٹ ورک پاکستان کا زیادہ مضبوط ہے۔ امریکہ جدید جاسوسی طیاروں کے ذریعے قبائلی علاقوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔ ان طیاروں میں نصب کیمرے سے یا تو ویڈیو بنائی جاتی ہے یا پھر کابل کے شمال میں بگرام کے فوجی اڈے پر موجود امریکی ماہرین تک براہ راست فیڈ بھیجی جاتی ہے۔ لیکن قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کے سابق سیکرٹری برگیڈئر محمود شاہ کا ماننا ہے کہ اس طرح سے حاصل کی گئی معلومات سو فیصد درست نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق اس معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کا تناسب پچاس فیصد سے بھی کم ہے۔ ’انہوں نے باجوڑ میں ڈمہ ڈولہ کے مقام پر ان معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی تھی کہ وہاں ایمن الظواہری موجود ہے لیکن وہ وہاں نہیں تھا اور سترہ عام شہری مارے گئے۔ اسی طرح دیگر حملوں میں بھی ایسا ہوا ہے۔‘ امریکیوں کے پاس زمین پر معلومات اکٹھی کرنے کے وسائل انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ قبائلی علاقوں سے اکثر مبینہ امریکی جاسوسوں کو ذبح کیے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن محدود رسائی کی وجہ سے اصل حقائق کبھی سامنے نہیں آپاتے۔ تاہم بریگیڈئر محمود شاہ کہتے ہیں کہ دوسری جانب پاکستان کے پاس انسانی انٹیلجنس کا بہترین نظام موجود ہے۔ ’تین بڑے خفیہ ادارے وہاں موجود ہیں۔ ان میں آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی شامل ہیں جو کسی بھی خبر کی تردید یا تصدیق کے علاوہ معلومات اکٹھی کرتے رہتے ہیں۔‘ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ شکایت صرف امریکہ کو پاکستان سے نہیں بلکہ پاکستان کو امریکہ سے بھی ہوتی ہیں۔ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ اکثر ایسا ہوا ہے کہ پاکستان نے امریکیوں کو نشانہ بتایا ہے لیکن امریکی یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ موسم خراب ہے طیارہ پرواز نہیں کرسکتا یا کوئی اور مسئلہ ہے۔
دوسری جانب امریکہ کارروائی کے لیے پاکستان کو معلومات دیتا ہے اور وہ اس کی تصدیق کرکے کارروائی نہیں کرتا تو امریکہ کو شکایت ہوجاتی ہے۔ شوکت قادر کہتے ہیں کہ زمینی حقائق کے بارے میں پاکستان کو بہتر خفیہ معلومات میسر آسکتی ہیں۔’ہمارے حملوں اور کارروائیوں کی شرح کامیابی ان کے حملوں سے بہتر ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ تازہ حملے امریکی فوج نے نہیں امریکی تحقیقاتی ادارے سی آئی اے نے کیے ہیں۔ البتہ مبصرین کے خیال میں امریکہ کی یک طرفہ کارروائی کی وجوہات میں ان کے قریبی حلیف صدر پرویز مشرف کا چلا جانا اور امریکہ میں صدارتی انتخابات کا قریب آنا شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں پاکستان کے پاس امریکہ سے شکایات کے باوجود تعاون جاری رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ شوکت قادر کہتے ہیں کہ پاکستان کو مالی امداد کی اس وقت اشد ضرورت ہے اور امریکہ خود مالی امداد کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں میں بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ پاکستان فوج اس تاثر سے متفق نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ رکا ہوا ہے۔ میجر محمد مراد خان اگرچہ شکایت کرتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ معلومات کا تبادلہ نہیں کر رہا اور نہ ہی کارروائی کے لیے طے کیے گئے اصولوں کی پابندی کر رہا ہے جس کے تحت پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر اور امریکہ افغانستان میں کارروائی کا حق رکھتا ہے۔ ’آپس میں بداعتمادی کی فضا کو ختم کرنا ہوگا۔ امریکہ کو ہمیں معلومات فراہم کرنا ہوگی تاکہ دونوں کے مشترکہ مفادات حاصل کیے جاسکیں۔‘ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر اب تک افغان سرحد پر سو سے زائد مشترکہ کارروائیاں کرچکا ہیں جوکہ دونوں کے درمیان کامیاب تعاون کی واضح مثال ہے۔ لیکن کئی کارروائیاں ناکام بھی ہوئی ہیں۔ القاعدہ اور طالبان قیادت گھوم پھر رہی ہے جو شک و شبہات پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان پر حملے، بش کی خفیہ اجازت11 September, 2008 | آس پاس ’غیر ملکی فوج کو اجازت نہیں‘11 September, 2008 | پاکستان پاک افغان تعلقات یونہی رہیں گے11 September, 2008 | پاکستان ’پاکستانی اجازت ضروری نہیں‘11 September, 2008 | پاکستان حکومتی سرپرستی میں جہاد ’ختم‘11 September, 2008 | پاکستان قومی پالیسی بنتی نظر نہیں آتی11 September, 2008 | پاکستان ’پاکستان کے اندر بھی کارروائی ضروری ہے‘10 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||