قومی پالیسی بنتی نظر نہیں آتی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان گزشتہ سات برس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’فرنٹ لائن سٹیٹ‘ تو بنا ہوا ہے لیکن تاحال اس کی یہ پالیسی، نہ تو قومی پالیسی بن سکی اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں سیاسی و مذہبی جماعتوں، فوج اور دیگر فریقین کی اس بارے میں اپنی اپنی ترجیحات، مؤقف اور مفادات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں حکومت کے لیے بھی اس جنگ میں فوری کامیابی حاصل کرنا انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔ اس بارے میں انگریزی روزنامہ ڈیلی ٹائمز کے ایڈیٹر اور سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ جب تک پاکستان کی سیاسی قیادت اور فوج ایک ہی صف میں نہیں ہوں گے، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ’مجھے لگتا ہے کہ فوج اور سیاسی قیادت ابھی ایک صف میں نہیں ہیں۔‘ ان کے مطابق ’زرداری صاحب کی کوشش ہوگی کہ امریکہ کو راضی رکھا جائے تاکہ وہاں سے پیسے وغیرہ آئیں اور معیشت کے مسائل حل ہوں جس کی عوام کو بھی ضرورت ہے۔۔۔ دوسری طرف فوج کے اپنے سٹریٹیجک مفادات ہیں افغانستان میں۔۔ کیونکہ فوج یہ سمجھتی ہے کہ ہندوستان وہاں بڑے پیمانے پر اثر رُسوخ بڑھا رہا ہے اور فوج پشتون طالبان مجاہدین کو امریکہ کے لیے ضائع نہیں کرنا چاہتی اور پاکستان میں چھپے افغان طالبان کے خلاف کارروائی سے گھبراتی ہے۔‘ نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ پاکستان حکومت پر شدت پسندی کے خلاف جنگ میں دو طرفہ دباؤ ہوگا۔ امریکہ چاہے گا کہ پاکستان زیادہ سے زیادہ کام کرے جبکہ پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ کارروائی کم سے کم ہو۔ ان کے مطابق انتہا پسندی کا مسئلہ حل کرنا ہی دیگر مسائل کا حل ہے اور آصف زردای بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے اقدامات سے جہاں امریکہ پاکستان کی اقتصادی مدد کرے گا وہاں ملک میں استحکام، معاشی مضبوطی اور بیرونی سرمایہ کاری بھی آئے گی۔ صدر پرویز مشرف کے ناقدین اور سیاسی مخالفین کہتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انہوں نے فوجی طاقت پر انحصار کیا اور انہیں پاپولر سیاسی قوتوں کی حمایت حاصل نہیں رہی اس لئے ان کی حکمت عملی ناکام رہی۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ اب ان کی جماعت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پالیسی تبدیل کردی ہے۔ ’ہم نے تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص عوامی نیشنل پارٹی کو شامل کرکے مختلف گروہوں سے بات چیت کی اور اس سے حالات بہتر ہوئے ہیں۔۔۔ جہاں انتہا پسندوں نے گڑ بڑ اور شرپسندی کی وہاں ریاست کی طاقت کا بھرپور استعمال کیا۔۔۔ خیبر ایجنسی میں منگل باغ کا صفایا کیا۔۔ باجوڑ اور سوات میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔‘ فرحت اللہ بابر نے دعویٰ کیا کہ جب قبائلی عوام کو یقین ہوگیا کہ حکومت طالبان کے خلاف سنجیدہ کارروائی کر رہی ہے تو انہوں نے خود بھی ہتھیار اٹھائے، لشکر بنائے اور شدت پسندوں کے خلاف ہوگئے، جو ان کے بقول حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں ایسا کبھی نہیں ہوا کیونکہ وہ ایک ہی وقت میں شکار اور شکاری کے ساتھ بھاگتے رہنے والی پالیسی پر عمل پیرا رہے۔ پیپلز پارٹی کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر خورشید کی سربراہی میں قائم تحقیقی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمٰن کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت اب بھی سابق صدر پرویز مشرف کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک شدت پسندی کی اصل وجہ ختم نہیں ہوگی اس وقت تک مسئلہ حل نہیں ہوگا اور اس کی جڑ ہے امریکہ اور ان کی اتحادی افواج کی افغانستان میں آمد اور مداخلت۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے۔ یہ امریکہ کی جنگ ہے جو پاکستان پر مسلط کی گئی ہے۔ خالد رحمٰن نے کہا کہ حکومت پارلیمان میں اس بارے میں بحث کرے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اتفاق رائے سے پالیسی بنائے۔ جماعت اسلامی کے ایک سرکردہ رہنما لیاقت بلوچ کہتے ہیں کہ انتہا پسندی کا معاملہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے جس کے بارے میں پارلیمان کے اندر اور باہر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر متفقہ پالیسی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی کارروائی مسئلے کا حل نہیں ہے اور بات چیت سے معاملہ طے کیا جائے۔ ان سے جب پوچھا کہ خود کش حملوں میں بے گناہ افراد کو مارنا غلط نہیں تو انہوں نے کہا کہ ’جب مساجد اور مدارس میں معصوم لوگوں کے چیتھڑے اڑیں گے تو رد عمل تو ہوگا‘۔ نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ مذہبی جماعتیں کبھی بھی انتہا پسندی کے خلاف متفق نہیں ہوں گی۔ ان کے مطابق آصف علی زرداری کو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت کے بغیر پیش قدمی کرنا مشکل ہوگی۔ ’ابھی تک میاں نواز شریف نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے وہ یہی ہے کہ زرداری صاحب کی حمایت نہیں کریں گے۔۔۔زرداری صاحب کے لیے ایک مسئلہ یہ ہے کہ فوج کو کس طرح ساتھ لے کر چلیں اور دوسری طرف اپوزیشن اور عوام کی مخالفت کا سامنا ہوگا اور وہ بُرے دلدل میں پھنسے ہیں۔‘ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات سے پہلے صدر بش کو کسی ’ہائی ویلیو ٹارگٹ‘ کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے عوام کو دکھا سکیں کہ انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||